مہسا امینی کی موت تشدد نہیں بیماری سے ہوئی، ایران

مہسا امینی کے متعدد اعضا نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا، میڈیکل رپورٹ

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ مہسا امینی کی موت تشدد نہیں بیماری کے باعث ہوئی۔

ایران کی فارنزک میڈیسن آرگنائزیشن کی جانب سے جاری مہسا امینی کی میڈیکل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مہسا امینی کے متعدد اعضا نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا جس کی وجہ سے وہ دماغی ہائپوکسیا کا شکار ہوئیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایران میں 17 ستمبر سے شروع ہونے والے مظاہروں کے بعد سے اب تک 150 سے زائد افراد ہلاک اور ہزاروں گرفتار ہوچکے ہیں۔

ایران میں اسکولوں اور یونیورسٹی کے طلباء کی جانب سے حکومت مخالف احتجاج کے دوران اسٹیبشلمنٹ اور علماء کے خلاف نعرے بازی بھی کی جارہی ہے۔

واضح رہے کہ ایران میں مہسا امینی کے اخلاقی پولیس کے ہاتھوں قتل کے بعد سے پر تشدد احتجاج جاری ہے۔

مہسا امینی کو 13 ستمبر کو ٹھیک سے اسکارف نہ پہننے پر تہران میں اخلاقی پولیس نے گرفتار کیا تھا۔

حراست کے دوران انہیں مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے باعث وہ کوما میں چلی گئی اور تین دن اسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی تھیں۔

IRAN PROTEST

MEHSA AMINI DEATH

Tabool ads will show in this div