بھارت میں ہندو انتہاپسندوں کا 500 سال پرانی تاریخی مسجد پر حملہ

ہجوم نے رات کی تاریکی میں مسجد کے تالے توڑ کر پوجا پاٹ کی

بھارت میں ہندو انتہاپسندوں کے ہجوم نے 500 سال پرانی تاریخی مسجد پر حملہ کردیا۔

ریاست کرناٹک کے ضلع بیدر میں ہندوؤں کے تہوار دسہرہ کے جلوس میں شریک ہندو انتہاپسندوں کا ایک ہجوم جے شری رام کے نعرے لگاتے ہوئے تاریخی مسجد اور مدرسے میں گھس گیا اوروہاں پوجا پاٹ شروع کردی۔

پولیس نے بتایا کہ بدھ کی شام ہجوم نے مسجد کا تالا توڑ دیا، انہوں نے پوجا کرنے سے پہلے مسجد کی سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر ”جے شری رام“ اور“ ہندو دھرم کی جے“ کے نعرے لگائے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیومیں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک بڑا ہجوم مسجد کی سیڑھیوں پر کھڑا ہے اور عمارت کے اندر جانے کی کوشش کررہا ہے۔

مقامی پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ نو افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے لیکن ابھی تک کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا۔

محمود گاون مدرسہ 1460 کی دہائی میں تعمیر کیا گیا تھا اوریہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے تحت ہے، مدرسے کی عمارت قومی اہمیت کی یادگاروں کی فہرست میں شامل ہے۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت مسلمانوں کو نیچا دکھانے کیلئے ایسے واقعات کو فروغ دے رہی ہے۔

ISLAMOPHOBIA IIN INDIA

Hindu mob attack on Mosque

Tabool ads will show in this div