آڈیو لیکس کی تحقیقات، تشکیل دی گئی کمیٹی کا پہلا اجلاس جاری

عمران خان کی آڈیو لیک کے محرکات پر غور

وزير داخلہ رانا ثناء اللہ کی زير صدارت آڈیو لیکس کی تحقيقات کیلئے تشکیل دی گئی کمیٹی کا پہلا اجلاس اسلام آباد میں جاری ہے، کمیٹی وزیراعظم ہاؤس کی سیکیورٹی پر نظرثانی بھی کرے گی۔

آڈیو لیکس کے معاملے پر بنائی گئی کمیٹی کا پہلا اجلاس آج بروز جمعہ 7 اکتوبر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہو رہا ہے، جس کی صدارت وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کر رہے ہیں۔

اجلاس میں وفاقی وزراء، انٹیلی جنس بیورو ( آئی بی )، انٹر سروسز انٹیلی جنس ( آئی ایس آئی ) کے نمائندے اور سیکریٹری کابینہ بھی شریک ہیں۔

کمیٹی سرکاری دفاتر پر سائبر حملے روکنے کیلئے سفارشات تیار کرے گی، جب کہ اجلاس میں وزیراعظم ہاؤس کی سائبر سیکیورٹی سے متعلق پروٹوکولز کا جائزہ بھی لیا جائے گا، کمیٹی 15روز میں سفارشات وزیراعظم کو پیش کرے گی۔ ذرائع کے مطابق کمیٹی عمران خان کی آڈیو لیک کے محرکات پر غور کرے گی۔

واضح رہے کہ تین روز قبل وزیراعظم ہاؤس کی آڈیو لیکس کے معاملے پر تحقیقات کیلئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کی سربراہی میں 12 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

آڈیو لیکس معاملہ کیا ہے؟

گزشتہ ہفتے وزیراعظم شہباز شریف، مریم نواز اور وفاقی کابینہ کے ارکان کی آڈیوز منظرعام پر آئی تھیں، ان آڈیو لیکس میں وفاقی وزراء اہم حکومتی اور سیاسی معاملات پر گفتگو کرتے سنے جاسکتے ہیں۔

آڈیو لیکس سامنے آنے کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے کئی اہم اجلاس بھی بلائے جس میں کئی اہم فیصلے کئے گئے۔ برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق حساس اداروں نے وزیر اعظم ہاؤس اور وزیر اعظم سیکرٹریٹ کا سائبر سکیورٹی کے حوالے سے جائزہ لیا ہے۔

معاملہ سامنے آنے کے بعد وزیر اعظم ہاؤس اور وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں رائج او ایس پیز میں تبدیلی کی گئی ہے ، جس کے تحت اب کسی کو وزیر اعظم ہاؤس میں موبائل فون اور لیپ ٹاپ لے جانے کی اجازت نہیں ہو گی۔

آڈیو لیکس پر کمیٹی بنارہا ہوں

آڈیو لیکس سے متعلق وزیر اعظم نے کہا تھا کہ آڈیولیکس کامعاملہ بہت سنجیدہ ہے، اس طرح کے سیکیورٹی بریچ بہت بڑا سوالیہ نشان ہیں، یہ وزیراعظم ہاؤس کی نہیں ریاست پاکستان کے وقارکی بات ہے، اس معاملے پر کمیٹی بنارہا ہوں، جو اس معاملے کی تہہ تک پہنچےگی، حقائق عوام کے سامنے رکھیں گے۔

قومی سلامتی کمیٹی

وزیراعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے شرکاء نے آڈیو لیکس پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے معاملے پر رانا ثناء اللہ کی سربراہی میں تحقیقات کیلئے اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دی تھی، ساتھ ہی سیکیورٹی، سیفٹی اور سرکاری کمیونیکیشنز کے محفوظ ہونے کو یقینی بنانے کا جائزہ لینے پر اتفاق کیا تھا۔

RANA SANAULLAH

PM house

AUDIO LEAKS

109 years in prison for rape

Tabool ads will show in this div