آرٹیکل 62 ون ایف کا ڈیکلریشن عدالت ہی دے سکتی ہے، چیف جسٹس

زندگی بھر کے لئے کسی کو نااہل کرنا اتنا آسان نہیں، جسٹس عمر عطا بندیال

چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے ہیں کہ زندگی بھر کے لئے کسی کو نااہل کرنا اتنا آسان نہیں، آرٹیکل 62 ون ایف کا ڈیکلریشن عدالت ہی دے سکتی ہے۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے رہنما فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی کے خلاف اپیل پر سماعت کی۔

فیصل واوڈا کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل نے نا حقائق چھپائے نا کوئی بدیانتی کی، فیصل واوڈا نے کاغذات نامزدگی 7 جون 2018 کو جمع کرائے، کاغزات نامزدگی کی جانچ پڑتال 18 جون کو ہوئی اور بیان حلفی 11 جون 2018 کو جمع کرایا، انہوں نے ریٹرننگ افسر کو بتا دیا تھا کہ امریکی شہریت چھوڑ دی ہے، نادرا نے 29 مئی 2018 کو امریکی شہریت کینسل ہونے کا سرٹیفکیٹ دیا تھا۔

جسٹس عائشہ ملک نے استفسار کیا کہ بیان حلفی جمع کراتے وقت فیصل واوڈا کا امریکی پاسپورٹ منسوخ نہیں ہوا تھا، جب آپ نے امریکی سفارت خانے جا کر شہریت کینسل نہیں کرائی تو نادرا نے سرٹیفکیٹ کیسے جاری کر دیا؟۔ جس پر فیصل واوڈا کے وکیل نے کہا کہ دُہری شہریت پر رکن آرٹیکل 63 ون سی کے تحت صرف ڈی سیٹ ہوتا ہے تاحیات نااہل نہیں۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ زندگی بھر کیلئے کسی کو نااہل کرنا اتنا آسان نہیں ،شواہد کا جائزہ لئے بغیر کسی کو بددیانت یا بےایمان نہیں کہا جا سکتا ،

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ آرٹیکل باسٹھ ون ایف کے اطلاق کا معیار مقرر کر چکی ہے، آرٹیکل 62 ون ایف کا ڈیکلریشن عدالت ہی شواہد ریکارڈ کرنے کے بعد دے سکتی ہے.

CJP

faisal wawda

JUSTICE UMAR ATTA BANDIAL

ARTICAL 62 (1) (F)

Tabool ads will show in this div