پی ٹی آئی کے ارکان پارلیمنٹ کو مانتے ہی نہیں تو پھر انہیں کیسے سنیں،عدالت

محض پوائنٹ اسکورنگ کیلئے درخواست نہیں سن سکتے،اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس میں پی ٹی آئی ارکان کے وکیل سے کہا کہ آپ پارلیمنٹ کو مانتے ہی نہیں تو پھر کیسے سنیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں تحریک انصاف کے 10 ارکان اسمبلی کی استعفوں کی منظوری کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔

چیف جسٹس نے پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر سے استفسار کیا کہ آپ پارلیمنٹ کومانتے ہی نہیں تو پھر کیسے سنیں۔ جس پر وکیل علی ظفر نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ کو مانتے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ماننا باتوں سے نہیں ہوتا کنڈکٹ سے دکھانا ہوتا ہے، محض پوائنٹ اسکورنگ کیلئے درخواست نہیں سن سکتے، کنڈکٹ سے دکھائیں واقعی پارلیمنٹ واپس جانا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آپ کی سیاسی جماعت کا احترام ہے لوگوں نے آپ کو ووٹ دیا تھا، لیکن اس توقع سے ووٹ دیا تھا کہ آپ 5 سال ان کی نمائندگی کریں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ایک ایک ضمنی الیکشن پر کتناخرچہ ہوتا ہے، اسی عوام پر واپس الیکشن کا خرچ ڈال دیا جاتا ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ تحریک انصاف کے جن دس ارکان کو استعفوں کی منطوری پر اعتراض ہے کیا وہ 10 ارکان بیان حلفی دیں گے وہ پارٹی پالیسی کیخلاف پارلیمنٹ جائیں گے، کیا وہ عملاً واقعی پارٹی پالیسی کیخلاف پارلیمنٹ جانے کا بیان حلفی دے سکتے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وکیل علی ظفر کو ارکان سے ایک گھنٹے تک سوچ کر بتانے کی مہلت دے دی۔ عدالت کے باہر مشاورت جاری ہے۔

PTI

Islamabad High Court (IHC)

سیدالحسن Oct 07, 2022 05:49am
بہت خوب چیف جسٹس صاحب۔
Tabool ads will show in this div