نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست؛ سپریم کورٹ نے اہم سوال اٹھا دیئے

آپ کو ثابت کرنا پڑے گا حالیہ ترامیم سے نیب قانون بے اثر کیسے ہوا، چیف جسٹس کا عمران خان کے وکیل سے استفسار

سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست کی سماعت کے دوران کئی اہم سوال اٹھا دیئے۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورت کے 3 رکنی بینچ نے نیب ترامیم کے خلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت کی۔

عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا کہ گزشتہ سماعت پر وفاق نے جواب جمع کروانے کا کہا تھا،ابھی تک تو نیب کا مؤقف بھی آن ریکارڈ نہیں آیا۔

چیف جسٹس نے مکالمے کے دوران ریمارکس دیئے کہ نیب نے کہا تھا وہ اٹارنی جنرل کے دلائل کو اپنائیں گے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ نیب نے زبانی کہا تھا ابھی تحریری کچھ نہیں آیا۔

چیف جسٹس نے عمران خان کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کو دلائل کیلئے کتنا وقت درکار ہوگا، عدالت کو صرف بنیادی حقوق اور آئین کی خلاف ورزی کو دیکھنا ہے۔

خواجہ حارث نے کہا کہ عوامی عہدیداروں کے احتساب کا قانون روز اول سے موجود ہے، احتساب کے قانون کی تاریخ 1947 سے شروع ہوتی ہے، اینٹی کرپشن قانون 1947 اور نیب قانون میں 5 جرائم مشترک ہیں، جب نیب آرڈیننس آیا تو وہ احتساب آرڈیننس کی ہی توسیع تھا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ لگتا ہے پاکستان میں نہ ختم ہونے والی کرپشن کی وجہ سے احتساب کی جڑیں کافی گہری ہیں، نئی ترامیم بنیادی انسانی حقوق کے خلاف کیسے ہیں؟ آپ کو ثابت کرنا پڑے گا حالیہ ترامیم سے نیب قانون بے اثر کیسے ہوا، یہ بھی بتائیں حالیہ ترامیم بنیادی انسانی حقوق سے متصادم کیسے ہیں۔ کیس کی مزید سماعت کیس کی مزید بدھ کو ہوگی۔

PTI

IMRAN KHAN

SCP

NAB Ordinance

Tabool ads will show in this div