سیلاب میں پھنسی حاملہ خواتین کےلیے الخدمت کی جانب سے موبائل ہیلتھ یونٹس تیار

ہیلتھ یونٹس حاملہ خواتین کے طبی معائنے اور زچگی کے دوران معاونت کریں گے

الخدمت فائونڈیشن نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں حاملہ خواتین کے طبی امداد کےلیے کسٹمائز موبائل ہیلتھ یونٹس تیار کروا لیے۔

ترجمان کے مطابق 3 موبائل یونٹس جعفرآباد، لوئر اور آپر سندھ بھجوا دیے گئے ہیں جبکہ اب تک 500 کے قریب حاملہ خواتین کی رجسٹریشن کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے۔

سیف مدر، سیف فیملی پراجیکٹ کے لیے 12 موبائل ہیلتھ یونٹس تیار کروائے جا رہے ہیں، جن کی مالیت 18 کروڑ روپے ہے۔ 20 فٹ کے موبائل یونٹس میں الٹراساؤنڈ، ڈاکٹر کلینک، لیبارٹری، فارمیسی اور واش روم کی سہولت ہوگی۔

یونٹس سیلاب متاثرہ علاقوں میں حاملہ خواتین کے طبی معائنے اور زچگی کے دوران معاونت کریں گے۔

چئیرمین الخدمت ہیلتھ سروسز پروفیسر ڈاکٹر حفیظ الرحمان نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ الخدمت فاونڈیشن سندھ اور بلوچستان کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں کسٹومائز 12 موبائل ہیلتھ یونٹس تیار کیے جائیں گے۔

موبائل یونٹ میں ڈاکٹر کلینک، الٹراسائونڈ، فارمیسی، لیبارٹری اور واش روم کی سہولیات ہونگی، ایک یونٹ کی تیاری پر ڈیڑھ کروڑ روپے کے اخراجات آئیں گے۔

یہ موبائل ہیلتھ یونٹس سندھ کے 10 اور بلوچستان کے 5 اضلاع میں بھیجیں جائیں گے، جہاں پہلے سے موجود 30 ایمبولینسز ان علاقوں میں حاملہ خواتین کا ڈیٹا اکھٹا کرکے ان کی رجسٹریشن کررہی ہے اوراب تک 500 کے قریب حاملہ خواتین کی رجسٹریشن مکمل ہوچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں ایک لاکھ 28 ہزار حاملہ خواتین ایسی ہیں جنہیں ایمرجنسی سروسز کی ضرورت ہے، اسی لیے الخدفمت فاونڈیشن نے سیف مدر، سیف فیملی پروجیکٹ شروع کیا ہے۔

ڈاکٹر حفیظ الرحمان نے بتایا کہ ان تمام موبائل ہیلتھ یونٹس کو سکھر سے کنٹرول کیا جائے گا جس کے لیے کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر بنایا گیا ہے، سکھر میں ایک فیلڈ اسپتال بھی قائم ہے اور سیلاب متاثرہ علاقوں میں دوائوں کی فراہمی کے لیے سکھر ہی میں دوائوں کا اسٹور بنایا گیا ہے۔

اس وقت 3 موبائل یونٹس تیار کرکے جعفرآباد، اپر اور لوئر سندھ بھیج دیے گئے ہیں اور انہوں نے کام شروع کردیا ہے۔

ان موبائل ہیلتھ یونٹس میں حاملہ خواتین کا میڈیکل ایگزامینیشن کیا جائے گا، انہیں دوائیں، آئرن انجیکشن فراہم کیے جائیں گے، نارمل ڈلیوری کے لیے سیف برتھنگ کٹس، انفینٹ کٹ، ڈگنٹی کٹ، ہائی جین کٹس فراہم کی جائیں گی۔

انہوں نے بتایا کہ ان علاقوں میں برتھ اٹینڈنٹ اور دائیوں کی بھی رجسٹریشن کی جارہی ہے ، انہیں ٹریننگ دے کر ان علاقوں میں بھیجا جائے گا تاکہ وہ گھروں یں نارمل ڈلیوری کرواسکیں۔

ڈاکٹر حفیظ الرحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں زچگی کے دوران زیادہ خون بہہ جانے سے پوسٹپارٹم ہیمریج کی وجہ سے خواتین انتقال کر جاتی ہیں، اس مقصد کے لیے 25 ہزار انجکشن بیرون ملک سے منگوائے جا رہے ہیں۔

یہ انجیکشن پوسٹ پارٹم ہیمریج کے دوران خواتین کو لگایا جاتا ہے، اس کے لیے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کو درخواست دی ہے کہ وہ ابتدائی طور پر ان انجکشن کے استعمال کا این او سی جاری کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں زچگی کے دوران خواتین اور نومولود بچوں کی اموات پاکستان میں سب سے زیادہ ہوتی ہیں، ہماری کوشش ہے کہ زچگی کے دوران ناصرف ماں کو بچایا جائے بلکہ صحت مند بچے کی پیدائش ہو تاکہ دو زندگیوں کو بچایا جا سکے۔

اس وقت جب لوگوں کے لیے کھانے کو موجود نہیں ہے ایسے میں حاملہ خواتین سب سے زیادہ مشکلات سے دوچار ہیں۔

ڈاکٹر حفیظ الرحمان کا کہنا تھا کہ الخدمت فائونڈیشن اس وقت سندھ اور بلوچستان کے سیلاب متاثرہ علاقوں میں 9 فیلڈ اسپتال، میڈیکل کیمپس ، ایمرجنسی رسپانس کلینکس اور موبائل کیمپس کام کر رہے ہیں جہاں اب تک 3 لاکھ سے زیادہ مریضوں کو علاج کی سہولیات فراہم کر چکے ہیں۔

Tabool ads will show in this div