پنجاب حکومت کا معاون خصوصی وزیراعظم عطا تارڑ کو گرفتار کرنے کا فیصلہ

پنجاب حکومت نے سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کاروائیاں تیز کردیں

استحقاق کمیٹی نے عطا تارڑ کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

پنجاب حکومت نے سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کاروائیاں تیز کردیں، اور ان کارروائیوں میں تحریک انصاف کے سینئر وزیر اسلم اقبال پیش پیش ہیں۔

صوبائی حکومت کی جانب سے پنجاب اسمبلی کی استحقاق کمیٹی کو سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے، اور استحقاق کمیٹی نے عطا تارڑ کو گرفتار کرنے کا حکم بھی دے دیا ہے۔

اس حوالے سے چوہدری علی اختر کی زیرصدارت پنجاب اسمبلی کی استحقاق کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں کمیٹی کے اجلاس میں پیش نہ ہونے پر عطا تارڑ کو گرفتار کر نے کا حکم دے دیا گیا۔

اس سے قبل بھی پنجاب پولیس نے ہفتہ 13 اگست کو وزیراعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی عطا اللہ تارڑ کی گرفتاری کیلئے ان کے گھر پر چھاپہ مارا تھا، تاہم وہ گھر پر موجود نہیں تھے۔

15 اگست کو عطاء تارڑ نے پنجاب پولیس کی جانب سے ممکنہ گرفتاری سے بچنے کے لئے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا۔

عطاء تارڑ نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے استدعا کی کہ پولیس نے گرفتاری کے لیے رہائش گاہ پر چھاپہ مارا، پنجاب پولیس کو میری گرفتاری سے روکا جائے، اور حفاظتی ضمانت منظور کی جائے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیراعظم کےمعاون خصوصی عطاتارڑکی حفاظتی ضمانت منظور کرلی، اور پنجاب پولیس کو عطاتارڑ کی گرفتاری سے روک دیا۔

وفاقی وزیر عطا تارڑ

پنجاب میں حمزہ حکومت ختم ہونے پر سابق ہوجانے والے صوبائی وزیر داخلہ عطاء اللہ تارڑ وفاقی کابینہ کا حصہ بن چکے ہیں۔

28 جولائی کو عطاء تارڑ کو وزیراعظم کا معاون خصوصی مقرر کردیا گیا تھا اور اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ان کا عہدہ وفاقی وزیر کے برابر ہوگا۔

Shoota T Oct 06, 2022 11:06am
This practice should be stopped by PMLN and PTI.
Tabool ads will show in this div