اسپیکرپنجاب اسمبلی کا انتخاب لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج

رانا مشہود کی درخواست میں اسپیکر سبطین خان سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا

لاہور ہائیکورٹ میں لیگی رہنما رانا مشہود نے اسپیکر پنجاب اسمبلی کا الیکشن چیلنج کر دیا۔

لاہورہائیکورٹ کی جسٹس عالیہ نیلم اور جسٹس علی ضیاء باجوہ نے کیس پر سماعت کی۔

عدالت نے ریمارکس دئیے کہ یہ 2 رکنی بنچ منشیات کے کیسز سن رہا ہے اورآئینی درخواست نہیں سن سکتا۔

عدالت کے2 رکنی بنچ نے بغیرکاروائی سماعت 10 اکتوبر ملتوی کردی۔

درخواست میں موقف

رانا مشہود کی درخواست میں اسپیکر سبطین خان سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا۔

رانا مشہود نے موقف اختیار کیا کہ آئین کے مطابق اسپیکر کا الیکشن خفیہ رائے شماری سے ہوتا ہے تاہم آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بیلٹ پیپرز پر سیریل نمبر درج کئے گئے ۔

رانا مشہود کا کہنا تھا کہ بیلٹ پیپر پر سیریل نمبر درج کرنے سے رائے شماری خفیہ نہیں رہی۔

انھوں نے عدالت میں موقف دیا کہ غیر قانونی اقدامات پر بات کی تو پنجاب اسمبلی میں داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ پنجاب اسمبلی کے سیشن میں حصہ لینے پر لگائی گئی پابندی عدالت کالعدم قرار دے۔

یہ بھی استدعا کی گئی کہ عدالت اسپیکر پنجاب اسمبلی کے انتخاب کو بھی کالعدم قرار دے۔

واضح رہے کہ 30 جولائی کو پاکستان تحریک انصاف اور ق لیگ کے مشترکہ امیدوار سبطین خان 185 ووٹ لے کر اسپیکر پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ان کے مخالف اپوزیشن اتحاد کے سیف الملوک کھوکھر نے 175 ووٹ حاصل کئے تھے جب کہ ان کے 4 ووٹ مسترد کردیئے گئے تھے۔

LAHORE HIGHCOURT

Tabool ads will show in this div