مہنگائی کے مقابلے میں لاکھوں روپے کی بچت کس طرح ممکن ہے

فضول خرچیوں کو کم کرکے سالانہ ڈیڑھ لاکھ سے 2 لاکھ روپے تک بچائے جاسکتے ہیں

ہوٹل میں چائے اور سیگریٹ پینے والے فضول خرچیوں کو کم کرکے سالانہ ڈیڑھ لاکھ سے 2 لاکھ روپے تک بچاسکتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے، امیر ہویا غریب ہر کوئی مہنگائی کا رونا رو رہا ہے، لیکن اس کے باوجود کوئی بھی اپنی فضول خرچیاں کم کرنے کو تیار نہیں۔

مہنگائی کا مقابلہ تو غیر ضروری اخراجات ختم کرکے ہی کیا جاسکتا ہے، اگر ہم غور کریں تو ہماری روز مرہ زندگی میں ایسی بہت سی چیزیں سامنے آجائیں گی جن کے استعمال کا کوئی فائدہ تو نہیں، لیکن ان پر ہمارے خون پسینے کی کمائی بھی خرچ ہوتی ہے اور ہماری صحت کا بھی نقصان ہے۔

چائے کو ہی لے لیں، تو دودھ، چینی، پتی، گیس اور دیگر اخراجات بڑھنے کی وجہ سے عام ہوٹلز میں چائے کا ایک کپ 50 سے 60 روپے میں فروخت ہورہا ہے۔

اگر کوئی فرد دن میں چائے کے 3 کپ پیتا ہے تو وہ روانہ 180 روپے چائے پر خرچ کرتا ہے، یہ خرچہ ماہانہ 5 ہزار 400 اور سالانہ 64 ہزار 800 روپے تک پہنچ جاتا ہے۔ جب کہ زیادہ چائے پینے والے ماہانہ اوسطاً 9 ہزار روپے اور سالانہ 1 لاکھ روپے بھی خرچ کردیتے ہیں۔

قطرہ قطرہ کس طرح دریا بنتا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہماری چائے کی ضرورت پوری کرنے کے لئے ماہانہ 10 ارب روپے کی چائے کی پتی درآمد کی جاتی ہے، جب کہ دودھ اور چینی کے اخراجات الگ ہیں۔

ہوٹلز میں چائے پینے کے بعد بہت سے افراد سیگریٹ سلگاتے ہیں، اور یہی لوگ کسی بھی شے پر 10 روپے بڑھنے پر آگ بگولہ بھی ہوتے ہیں۔

اس وقت ایک سیگریٹ کی اوسطاً قیمت 15 سے 20 روپے ہے۔ اور اگر کوئی فرد ایک پیکٹ سیگریٹ پیتا ہے تو وہ روزانہ 200 سے 400 روپے، ماہانہ 6000 سے 12000 روپے اور سالانہ 72 ہزار سے 1 لاکھ 44 ہزار روپے ضائع کردیتا ہے۔

چائے کے مقابلے میں سیگریٹ زیادہ خطرناک اور مضر صحت ہے، اور عالمی ادارہ صحت کے مطابق ہرسال 80 ہزار افراد سیگریٹ نوشی کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

اگر کوئی فرد چائے اور سیگریٹ دونوں کا شوقین ہے تو ایسے افراد کا خرچ اوسطاً ماہانہ 12000 روپے اور سالانہ ڈیڑھ سے 2 لاکھ روپے تک پہنچ جاتا ہے، اور اگر یہ رقم بچالی جائے تو بہت سے گھریلو اشیاء مثلاً لیپ ٹاپ، کمپیوٹر، موٹرسائیکل، اے سی، فریج اور دیگر اشیائے ضروریہ خریدی جاسکتی ہیں۔

سیگریٹ اور چائے کے علاوہ ایسی بہت سی چیزیں ہیں جو فضول خرچی کے زمرے میں آتی ہیں، اگر ان اشیا کا استعمال ترک کردیا جائے تو ناصرف مہنگائی کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے بلکہ اپنی صحت کو بھی برقرار رکھا جاسکتا ہے۔

Tabool ads will show in this div