کراچی میں آکٹوپس بکنے لگا، ذائقہ کیسا؟

مچھلی، جھینگے اور لوبسٹر کے بعد پیش ہے آکٹوپس

مچھلی، جھینگے اور لوبسٹر کے بعد اب کراچی میں آکٹوپس بھی بکنے لگے ہیں۔

ویسے تو سمندر میں پائی جانے والی ہر مخلوق کے بارے میں دنیا بھر میں عجیب و غریب قسم کے خیالات پائے جاتے ہیں لیکن آکٹوپس کے بارے میں سب سے زیادہ منفی باتیں پھیلی ہوئی ہیں۔

لوگوں کو ایک جانب آکٹوپس کے بارے میں سوچ کر ہی خوف سے جھرجھری آجاتی ہے تو دوسری جانب ایسے افراد کی بھی کمی نہیں جو آکٹوپس کو بڑے شوق و ذوق سے کھاتے ہیں۔

عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں ہر سال تقریباً ساڑھے تین لاکھ ٹن آکٹوپس شکار کیے جاتے ہیں۔

کراچی میں بھی اب شوقین افراد کے لئے آکٹوپس کی فروخت شروع ہوگئی ہے۔

کراچی کے پاش علاقے میں قائم ریسٹورنٹ میں آکٹوپس پکانے والے شیف بلال ناز کا کہنا ہے کہ آکٹوپس میں بھی دیگر جانوروں کی طرح بہت سے اعضا ہوتے ہیں، جنہیں نکالنے کے بعد اسے باربی کیو کی طرح بنایا جاتا ہے۔

اسے کھانے والے کہتے ہیں کہ آکٹوپس کا ذائقہ بُرا نہیں ، یہ مرغی اور مچھلی کے گوشت سے ملتا جلتا ہوتا ہے۔

octopas

karachi foodies

Tabool ads will show in this div