آڈیو لیکس؛ عمران خان اور ان کے ساتھیوں کیخلاف قانونی کارروائی کی منظوری

قومی سلامتی کا معاملہ ہے جس کے قومی مفادات پر سنگین مضر اثرات ہیں، کابینہ کمیٹی کی سفارش

وفاقی کابینہ نے سابق وزیراعظم عمران خان، ان کے ساتھی وزرا اور سابق سیکرٹری ٹو پرائم منسٹر اعظم خان کے خلاف قانونی کارروائی کی باضابطہ منظوری دے دی۔

تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی اپنے ساتھی وزراء اور پرنسپل سیکرٹری کے ساتھ بات چیت کی آڈیو لیکس پر کابینہ کا بڑا فیصلہ سامنے آگیا ہے۔

وفاقی کابینہ نے سابق وزیراعظم عمران خان، ان کے ساتھی وزرا اور سابق سیکرٹری ٹو پرائم منسٹر اعظم خان کے خلاف قانونی کارروائی کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔

کابینہ نے ’ڈپلومیٹک سائفر‘ سے متعلق آڈیو لیک پر ایف آئی اے کے ذریعے تحقیقات اور قانونی کارروائی کی منظوری دی ہے۔

کابینہ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ ”یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے جس کے قومی مفادات پر سنگین مضر اثرات ہیں، قانونی کارروائی لازم ہے“، ”ایف آئی اے سینیئر حکام پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے“، اور ”ایف آئی اے انٹیلی جنس اداروں سے بھی افسران اور اہلکاروں کو ٹیم میں شامل کر سکتی ہے“۔

سمری میں کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ “ایف آئی اے کی ٹیم جرم کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرے۔

واضح رہے کہ کابینہ نے 30 ستمبر کو عمران خان کی سائفر سے متعلق آڈیو لیک پر کابینہ کمیٹی تشکیل دی تھی، کابینہ کمیٹی نے یکم اکتوبر کو منعقدہ اجلاس میں قانونی کارروائی کی سفارش کی۔

کابینہ کمیٹی کی سفارشات کو سمری کی شکل میں کابینہ کی منظوری کے لئے پیش کیا گیا، اور وفاقی کابینہ نے ’سرکولیشن‘ کے ذریعے کابینہ کمیٹی کی سفارشات کی منظوری دی۔

ڈپلومیٹک سائفر سے متعلق عمران خان کی پہلی آڈیو 28 ستمبر کو منظر عام پر آئی تھی، اور اسی سے متعلق عمران خان کی دوسری آڈیو 30 ستمبر کو منظر عام پر آئی۔

آڈیو لیکس میں عمران خان، اعظم خان، شاہ محمود قریشی اور اسد عمر سائیفر تبدیل کرنے کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں۔

IMRAN KHAN

AUDIO LEAKS

Tabool ads will show in this div