عمران خان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور

دس ہزار روپے بطور ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم

سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) عمران خان ( Imran Khan ) کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کرلی گئی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ اتوار کو چھٹی کے روز ایک بار پھر کھل گیا۔ صبح ہوتے ہی ڈائری برانچ کا عملہ بھی عدالت پہنچا۔ اس موقع پر ڈائری برانچ کے اسسٹنٹ رجسٹرار اسد خان بھی اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی بھی اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے۔

درخواست کس کے توسط سے دائر کی گئی؟

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے آج بروز اتوار دو اکتوبر کو وکیل بابر اعوان کے ذریعے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائر کی گئی۔

درخواست میں مؤقف کیا ہے؟

درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ میرے (عمران خان ) کے خلاف مقدمے کا مقصد ہی میری گرفتاری ہے۔ مجھے گرفتار کر کے میری پرامن جدوجہد روکنے کی کوشش ہو رہی ہے۔

دائر درخواست میں عمران خان کا یہ بھی کہنا ہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت سے کیس منتقل ہونے پر ضمانت بھی مسترد ہوگئی۔ تاہم سیاسی مخالف حکومت نے بدنیتی کے تحت مذموم مقاصد کیلئے جھوٹا مقدمہ بنایا۔

بینچ تشکیل

عمران خان کی دائر درخواست ضمانت پر سماعت کے لیے آج ہی بینچ تشکیل دے دیا گیا، جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے سماعت کی۔

جسٹس اختر کیانی نے درخواست ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرتے ہوئے عمران خان کو دس ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے اور متعلقہ عدالت میں 7 اکتوبر کو پیش ہونے کا حکم دے دیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران خان کی درخواست پر اِن چیمبر سماعت ہوئی۔

واضح رہے کہ ہفتہ یکم اکتوبر کو ایڈیشل سیشن جج زیبا چوہدری کو دھمکی دینے کے کیس میں عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے گئے تھے۔ عمران خان کے خلاف دہشت گردی کی دفعات نکلنے کے بعد باقی دفعات کے تحت مقدمہ سیشن کورٹ میں زیر التوا ہے۔

وارنٹ گرفتاری تھانہ مارگلہ کے علاقہ مجسٹریٹ نے عمران خان نے وارنٹ گرفتاری جاری کئے۔ وارنٹ گرفتاری تھانہ مارگلہ میں 20 اگست کو درج مقدے میں جاری کئے گئے۔

مقدمے میں عمران خان کے خلاف دفعہ 506/504 لگی ہوئی ہے۔ مقدمے میں عمران خان کے خلاف دفعہ 189/188 بھی لگائی گئی ہے۔ عمران خان کے خلاف تھانہ مارگلہ میں درج مقدمے کا نمبر 407 ہے۔ مقدمے میں دفعہ 506 دھمکی آمیز بیان دینے پر درج کی گئی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور ہونے کے بعد اتوار دو اکتوبر کو میڈیا سے گفتگو میں بابر اعوان نے کہ کہ مریم اس کے ابا اور اس کے چچا عمران خان کو پکڑنے کے لیے تڑپ رہے ہیں، یوں لگتا ہے کہ ان کو اقتدار کی کرسی پر نہیں گرم توے پر بٹھا دیا گیا ہے۔ عمران خان نے کسی عدالت میں نہیں کہا کہ میں بیمار ہوں، نہیں آسکتا۔ عمران خان کی طاقت دیکھی جب مسٹ کال جاتی ہے تو لوگ پہنچ جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں آج عدالت کے سامنے پیش ہوا، یہ وہ کیس ہے جس میں پہلے ہی ضمابت لی ہوئی ہے، یہ حکومت اب خانہ جنگی کرانا چاہتی ہے۔ اب عمران کی کال کے انتظار میں بڑی تعداد میں وکلاء، کسان اور طالب علم نکلیں گے۔ جتنے بھی عمران کے خلاف کیس بنائے گئے پی ٹی آئی چیئرمین سب میں سرخرو ہوئے۔ بہت جلد عمران خان کال دیں گے۔

IMRAN KHAN

ISLAMABAD HIGH COURT

PRE-BAIL ARREST APPLICATION

LAWYER BABAR AWAN

Tabool ads will show in this div