عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری

سینئر سول جج رانا مجاہد نے وارنٹ جاری کئے

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے گئے۔

چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کیخلاف تھانہ مرگلہ پولیس کی درخواست پر وارنٹ گرفتاری سینئر سول جج رانا مجاہد رحیم نے جاری کئے۔

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کیخلاف دفعہ 144 اور دیگر دفعات کے تحت تھانہ مرگلہ میں مقدمہ درج ہے، جس میں دفعہ 506، 504 اور 188، 189 شامل ہیں۔

پولیس کی جانب سے آج وارنٹ گرفتاری کیلئے درخواست کی گئی تھی جس پر مقامی عدالت نے عمران خان کے وارنٹ جاری کئے۔

اسلام آباد پولیس کا مؤقف

اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے وارنٹ گرفتاری پچھلی سماعت پر عدالت میں پیش نہ ہونے پر جاری ہوئے ہیں کیونکہ انہوں نے ابھی تک سیشن عدالت سے اپنی ضمانت نہیں کرائی ہے۔

اسلام آباد پولیس کے مطابق وارنٹ گرفتاری کا اجراء ایک قانونی عمل ہے، عدالت میں پیشی یقینی بنانے کیلئے وارنٹ جاری ہوئے، عدالت میں پیش نہ ہونے کی صورت میں گرفتار بھی کیا جاسکتا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ہائیکورٹ نے عمران خان کیخلاف مقدمے سے دہشت گردی کی دفعہ خارج کرنے کا حکم دیا تھا، ہائیکورٹ کے حکم کے بعد مقدمہ سیشن کورٹ منتقل ہوگیا تھا۔

یاد رہے کہ عمران خان کیخلاف شہبازگل کی حمایت میں ریلی سے خطاب کے دوران دھمکی آمیز زبان استعمال کرنے پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین گزشتہ روز جمعہ 30 ستمبر کو خاتون جج زیبا چوہدری کی عدالت میں بھی گئے تھے، تاہم رخصت کے باعث جج عدالت میں موجود نہ تھیں۔ اس موقع پر ریڈر سے گفتگو میں عمران خان کا کہنا تھا کہ جج زیبا چوہدری صاحبہ کو بتانا کہ عمران خان معافی مانگنے آیا تھا۔

دوسری جانب آج ہفتہ یکم اکتوبر کو چیئرمین تحریک انصاف عمران خان بیان حلفی بھی عدالت میں جمع کرادیا۔

بیان حلفی کے متن کے مطابق دوران سماعت احساس ہوا کہ 20 اگست کو تقریر میں شاید ریڈ لائن کراس کی، اگر جج کو یہ لگا کہ ریڈ لائن کراس ہوئی تو معافی مانگنے کو بھی تیار ہوں، تقریر میں جج ( Zeba Chaudhry ) کو دھمکی دینے کا ارادہ نہیں تھا۔

IMRAN KHAN

WARRENT

Tabool ads will show in this div