خاتون کو ہراساں کرنے پرڈی جی پیمرا سے متعلق صدرمملکت کا اہم فیصلہ

جرمانے کی رقم 20 لاکھ سے بڑھا کر 25 لاکھ روپے کردی

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے خاتون کو جنسی ہراساں کرنے کے جرم میں ڈائریکٹر جنرل پیمرا حاجی آدم کو ملازمت سے برطرف کرنے اور 25 لاکھ روپے جرمانہ عائد کرنے کا حکم دے دیا۔

صدر مملکت نے ملزم کو نوکری سے نکالنے کا وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت کا فیصلہ برقرار رکھا جبکہ جرمانے کی رقم 20 لاکھ سے بڑھا کر 25 لاکھ روپے کردی۔

صدر مملکت نے کہا کہ خواتین کے لیے محفوظ ماحول کو یقینی بنانے کے لیے ایسے اقدامات ضروری ہیں کیوں کہ ملزم نے خاتون ملازم کو شدید ذہنی اذیت دی اوراس کی ساکھ کو داؤ پر لگایا۔

انھوں نے مزید کہا کہ خواتین ممکنہ ہراسیت کی وجہ سے آزادانہ کام کرنے سے قاصر ہیں۔

صدر مملکت نے جرمانے کی رقم ملزم کی تنخواہ کے بقایا جات، پنشن کی رقم یا جائیداد کے ذریعے وصول کرکے متاثرہ خاتون کو دینے کا حکم دیا۔

کیس کا پس منظر

نومبر 2021 میں وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسانی کشمالہ طارق نے ڈی جی پیمرا حاجی آدم کو نوکری سے نکالنے کا حکم دیا تھا۔

سابق ڈی جی پیمرا حاجی آدم کے خلاف جنوری 2020 ميں جنسی ہراسانی کی درخواست دائر کی گئی تھی۔ کشمالہ طارق نے فروری 2020 میں ڈی جی کو معطل کرنے کا عبوری فیصلہ دیا تھا۔ ڈی جی پیمرا نے عبوری فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا تھا۔

ہائی کورٹ نے بھی ڈی جی پیمرا کی اپیل مسترد کرتے ہوئے وفاقی متسب برائے انسداد حراسانی سے رجوع کرنے کا حکم دیا تھا۔ ڈی جی پیمرا کی صدر مملکت نے بھی دو بار اپیل مسترد کی اور متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کا حکم دیا تھا۔

متاثرہ خاتون پیمرا میں ڈیلی ویجز ملازمہ تھی۔ دوران ملازمت ڈی جی پیمرا کا خاتون کو حراساں کرنے کا الزام تھا۔ پیمرا میں 9 ڈائریکٹر جنرل موجود ہیں اور حاجی آدم ان میں سے ایک تھے۔ وہ ڈائریکٹر جنرل ایچ آراینڈ ایڈمنسٹریشن کے عہدے پر فائز تھے۔

PEMRA

Harassment Case

president arif alvi

Tabool ads will show in this div