استعفوں سے متعلق آڈیو لیک؛سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے متن میں کیا لکھا ہے؟

متن میں وزیر اعظم، خواجہ آصف، راناثناءاللہ، احسن اقبال اور ایاز صادق کی گفتگو ہے

پاکستان پاکستان تحریک انصاف نے اپنے ارکان قومی اسمبلی کے استعفوں کی منظوری سے متعلق زیر التوا مقدمے میں متفرق درخواست دائر کی ہے جس میں وزیر اعظم اور وفاقی وزراء کی گفتگو کا متن بھی جمع کروایا گیا ہے۔

سپریم کورٹ میں جمع کرائے گیا متن درج ذیل ہے:

ایاز صادق: کل ڈیٹیل میں ڈسکشن ہوئی ہے، (رانا ثنااللہ) وہ بتا دیں نا کون کون سے؟

اعظم نذیر تارڑ وفاقی وزیر قانون: ڈیلی آپ 30،30 کو نوٹس دے رہے، 6 نوٹس دے دیے، آج ساتواں دے دیں گے، کل آٹھواں دے دیں گے۔

ایاز صادق: ابھی نوٹس دیے ہیں، ابھی ایک لسٹ دی ہے کہ آپ لوگوں نے آکر 6 کو ملنا ہے۔ اس پر ہماری آج ڈیٹیل میٹنگ ہے اور اس پر ٹائپ کراکے ہم لیڈر سپ کو دیں گے کہ اپرول دیں۔

رانا ثناء اللہ: 6 کو جن 30 لوگوں نے پیش ہونا ہے، ان میں سے 7-8 کے استعفے ایکسیپٹ کرنے ہیں، وہ میاں صاحب سے کلیر کروالیں گے، وہ ایکسپیٹ ہوجائیں گے اسی بات پر ایکسیپٹ ہوجائیں گے کہ آپ نے کنفرم کئے، جائیں جاکر الیکشن کمیشن کو کہیں۔

خواجہ آصف: اگر نہیں آتے تو ؟ رزلٹ کیا ہوگا؟

رانا ثںاء اللہ: نہیں آتے تو نہ آئیں، ستاں دے ایکسیپٹ کرلاں گے (ساتوں کے ایکسیپٹ کرلیں گے)

خواجہ آصف: سمجھ نہیں آرہی کہ اس کے بعد کیا ہوگا

ایاز صادق: سر وہ بلائیں گے اگر وہ نہیں بھی آتے تو وہ کہیں گے ہاں جی اس کے سگنیچر ٹھیک تھے، ادروائز جس کے نہیں کرنے اس کو کہیں گے کہ اس کے سگنیچر ٹھیک نہیں تھے یا اس نے خود نہیں کیا، (رانا ثنااللہ)یا وہ دوبارہ ہاؤس میں آئیں۔

خواجہ آصف: 6 کے بنیادی ڈسکریشن ہمارے ہاتھ ہے کہ کس کو رکھنا ہے اور کس کو نہیں۔

ایاز صادق: اسپیکر اپنے پاس رکھ لے گا۔

احسن اقبال؛ بنیادی بات یہ ہے کہ جو بندہ نہیں آئے گا اس کا کیا ہوگا؟

ایاز صادق : وہ کہہ دے گا کہ اس کے سگنیچر ٹھیک ہیں وہ نہیں آیا۔

احسن اقبال: اگر ایک بندے کو آپ نے فارغ کرنا ہے ،He doesn’t show up تو What will your suggestion be

خواجہ آصف: اس کا نوتس ایکسپائر ہوگیا نا وہ نہیں آیا۔

شہباز شریف: دیکھیں بجٹ کے لئے میٹنگ شروع ہوگی، ہماری کابینہ بھی ملے گی، 11 ساڑھے 11 تک، میری گزارش یہ ہے کہ اس میں دیر نہ کریں۔

رانا ثںاء اللہ: 6 سے یہ پراسیس شروع ہوجائے گا، آپ نے 5 کو ایکسیپٹ بتانا ہے کہ 30 میں سے کس کے کرنے ہیں؟

ایاز صادق : ہم شارٹ لسٹ کرکے، ٹائپ کرکے آپ کو دے دیں گے، آپ لندن سے اپروول لے لینا۔

شہباز شریف: نہیں اپرول کیا لینی، بس جو شاہ محمود قریشی اور 4-5 نکل جائیں، اینہاں نو گرمی وی بڑی لگی ہوئی ہے۔

ایاز سادق: ٹھیک ہے سر، پھر رانا صاحب کو اتھارٹی دے دیں ڈیسائیڈ کرنے کی، (رانا ثنااللہ) ڈیسائڈ کیا بس جیسے آپ نے ڈیسائڈ کیا کل وہ ٹھیک ہے۔

سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کی ایک اور مبینہ آڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ امریکی مراسلے کے تناظر میں سینیئر پارٹی رہنماؤں سے گفتگو کرتے سُنائی دیتے ہیں۔

تحریک انصاف نے استعفوں سے متعلق وزراء کی گفتگو کی آڈیولیکس کا اسکرپٹ سپریم کورٹ میں جمع کرواُ دیا ہے، اب یہ لیکس سپریم کورٹ کے سامنے ہیں ایک تو سپریم کورٹ ان لیکس کے بعد تحریک انصاف کے گیارہ اراکین کے استعفوں کے معاملے پر فیصلہ کرے اور اس زیادہ اہم کہ ان لیکس کی تحقیقات کا حکم دے۔

PML-N

PTI

AUDIO LEAK

AUDIO LEAKS

Tabool ads will show in this div