زاہدان میں مسلح افراد کا تھانے پر حملہ، 19افراد جان سے گئے

دونوں جانب سے بھاری ہتھیاروں کا استعمال

ایران کے شہر زاہدان میں مظاہرین نے پولیس تھانے پر حملہ کردیا۔ جھڑپوں میں پاسداران انقلاب کے اہم کمانڈر علی موسوی سمیت 19 افراد جان سے گئے۔

غیرملکی خبرایجنسی کےمطابق جنوب مشرقی شہر زاہدان میں 15 سال کی لڑکی سے پولیس افسرکی زیادتی کے بعد احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

حکام کے مطابق مسلح مظاہرین کے تھانے پرحملے کےبعد جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ پولیس کی جانب سے جوابی فائرنگ میں متعدد افراد جان سے گئے جب کہ کئی زخمی ہوئے۔

دونوں جانب سے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیاگیا۔ اس واقعہ میں مجموعی طورپر19 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوئے۔

اس کےعلاوہ ایران کے دیگر شہروں میں بھی مہسا امینی سے انصاف کے لیے مظاہرے جاری ہیں، پرتشدد مظاہرون میں اب تک مجموعی طورپر 100 سے زائد اموات رپورٹ ہوچکی ہیں۔

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے کہا ہے کہ مہسا امینی کی موت نے سب کو غمزدہ کیا ہے لیکن احتجاج کی آڑ میں کسی کو افراتفری پھیلانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

اپنے ایک بیان میں ایرانی صدر نے کہا کہ شرپسندوں کو فسادات کے ذریعے معاشرے کا امن کا خراب کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

IRAN PROTEST

Tabool ads will show in this div