پاکستان کی کوشش ہے کہ ڈاکٹرعافیہ کا معاملہ بہترانداز میں اٹھائے،دفترخارجہ

مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیا جا رہا ہے

دفترخارجہ نےکہاہےکہ پاکستان کی کوشش ہے کہ امریکا میں قید ڈاکٹرعافیہ صدیقی کا معاملہ بہترانداز میں اٹھائے اور اس پر مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔

ترجمان دفترخارجہ عاصم افتخار احمد نے صحافیوں کو ہفتہ واربریفنگ دیتے ہوئے بھارت سے متعلق بتایا کہ بھارت کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر ذمہ دارانہ اقدامات کرنا ہوں گے کیوں کہ ان اقدامات کے بعد ہی بامقصد اور تعمیری تعلقات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ بھارت سے پاکستان باہمی مسائل کے حل، باہمی احترام اور دونوں ممالک کے مفاد میں تعلقات چاہتا ہے البتہ بھارت کے مقبوضہ کشمیر کے 5 اگست 2019 کے اقدامات کے بعد تعلقات میں مزید خرابی آئی ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ بھارت کی جانب سے مجدد الف ثانی کی تقریب میں شرکت کے خواہشمند پاکستانیوں کو اجازت نہ دینا افسوسناک ہے اور یہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی معاہدے کی بھی خلاف ورزی ہے،یہ عرس 19 سے 26 ستمبر تک ہونا تھا اور 196 زائرین نے اس عرس میں شرکت کرنا تھی۔ بھارت نے44 افراد کو ویزا جاری نہیں کیا جبکہ دیگر کے ویزوں کو پولیس رپورٹ سے مشروط کردیا گیا۔

ترجمان نے عافیہ صدیقی سے متعلق بتایا کہ امریکا میں قید عافیہ صدیقی کا معاملہ سینکڑوں پاکستانیوں کے دل کے قریب ہے،پاکستان عافیہ صدیقی کے معاملے کو اٹھانے کی ہر ممکن کوشش جاری رکھے گا۔

انھوں نے بتایا کہ پاکستان کی کوشش ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کا معاملہ بہترانداز میں اٹھائے اور اس پر مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیا جا رہا ہے،اس حوالے سے معاملہ عدالت میں ہے اوراس پر متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد عدالت کو رپورٹ جمع کرائیں گے۔

نیویارک میں موجود پی آئی اے کی ملکیت ہوٹل پرترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہمارے لئے خوشی کا مقام ہوتا اگر روزویلٹ ہوٹل دفترخارجہ کا اثاثہ ہوتا اور یہ صورتحال کبھی نہ ہوتی تاہم یہ معاملہ پی آئی اے کا ہے اور اس پر مزید بات نہیں کرنا چاہتے۔

FOREIGN OFFICE

Dr Aafia Siddiqui

Tabool ads will show in this div