برکینافاسو میں فوج کی غیر معمولی نقل و حرکت، سرکاری ٹی وی کی نشریات بند

صدارتی محل اور فوجی ہیڈکوارٹر کے قریب دھماکے اور فائرنگ کی آوازیں

برکینافاسو میں دارالحکومت اوگاڈوگو کی سڑکوں پر دھماکے اور فائرنگ کی آوازوں کے ساتھ فوج کی غیرمعمولی نقل و حرکت دیکھی گئی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق صدارتی محل اور فوجی ہیڈکوارٹر کے قریب ایک زوردار دھماکے کی آواز سنی گئی ہے جبکہ فوجیوں کو وہاں اپنی پوزیشنز سنبھالتے دیکھا گیا ہے۔

فوج نے صدارتی محل کی طرف جانے والی سڑک کا کنٹرول سنبھال رکھا ہے جہاں ملک کی اہم انتظامی عمارتیں اور قومی ٹیلیویژن سینٹر بھی واقع ہے۔

صبح سے سرکاری ٹی وی کی نشریات معطل ہیں اور اسکرین پر نو ویڈیو سگنل کے الفاظ لکھے نظر آرہے ہیں۔

برکینافاسو میں 9 ماہ قبل 24 جنوری 2022 کو فوج نے اقتدار پر قبضہ کرکے صدر روش کابور کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔

بغاوت کرنے والے فوجی لیڈر کرنل پاول ہینری سین ڈوگو کا کہنا تھا کہ وہ ملک میں امن و امان کو بحال کرینگے جسے القاعدہ اور داعش نے تباہ کر رکھا ہے۔

فی الحال یہ واضح نہیں کہ بغاوت کرنیوالے فوجی حکمران اس وقت ملک میں موجود ہیں یا نہیں، گزشتہ ہفتے انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیلئے نیویارک کا سفر کیا تھا۔

دارالحکومت میں فوج کی نقل و حرکت کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا جس کے باعث سوشل میڈیا پر مختلف افواہیں گردش کررہی ہیں اور لوگ ایک اور نئی بغاوت کے خدشات کا اظہار کررہے ہیں۔

افریقی ملک برکینا فاسو طویل عرصے سے بدامنی، غربت اور عدم استحکام کا شکار ہے۔ فرانس کی سابقہ کالونی رہنے والے ملک کا تقریباً 40 فیصد حصہ حکومتی کنٹرول سے باہر ہے۔

Burkina Faso

Tabool ads will show in this div