پاکستانی معیشت سیلاب سے شدید معاشی اورانسانی بحران کا شکار،رپورٹ

ملکی معیشت کو مہنگائی،بیرونی مالی دباؤ اور غیر یقینی صورت حال کا سامنا ہے

وزارت خزانہ کی ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ آؤٹ لک رپورٹ جاری کردی گئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستانی معیشت حالیہ سیلاب کی وجہ سے شدید معاشی اورانسانی بحران کا شکار ہے،ملکی معیشت کو مہنگائی،بیرونی مالی دباؤ اور غیر یقینی صورت حال کا سامنا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ موجودہ مالی سال معاشی شرح نمو ہدف سے کم رہنے کا امکان ہے، سیلاب کے باعث فصلیں متاثر ہوئی ہیں اورخوراک کےعدم تحفظ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مہنگائی کی وجہ خوراک کی عالمی قیمتوں میں اضافہ، سیلاب اور روپے کی قدر میں کمی ہے۔

یہ بھی بتایا گیا کہ 2 ماہ سے تیل اور خوراک کی عالمی قیمتوں میں کمی کا رجحان ہے جب کہ ستمبر میں مہنگائی کی شرح میں کمی متوقع ہے۔

وزارت خزانہ کی جانب سے بتایا گیا کہ سیلاب میں کسانوں کی ایک بڑی تعداد اپنے گھر بار اور مویشیوں سے محروم ہوگئی ہے۔

رپورٹ کےمطابق جولائی اور اگست میں برآمدات میں 11.3 فیصد اضافہ ہوا اور برآمدات 5.1 ارب ڈالر رہیں۔2 ماہ میں ترسیلاتِ زر میں 3.2 فیصد کمی آئی اور5.2 ارب ڈالر ریکارڈ کئے گئے۔جولائی اور اگست میں ٹریکٹر کی پیداوار میں 37.3 فیصد اورفروخت میں 18.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

اس کےعلاوہ جولائی اور اگست میں زرعی قرضوں کی تقسیم میں 31.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

مزید بتایا گیا کہ جولائی سے اگست کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 1.9 ارب ڈالر رہا،براہ راست بیرونی سرمایہ کاری،زرمبادلہ زخائر،روپے کی قدر میں کمی ہوئی۔

رپورٹ کےمطابق ایف بی آر کے ریونیو میں 9.7 فیصد اضافہ ہوا اوریہ 948 ارب روپے رہا۔

مالی خسارے،نان ٹیکس ریونیو،ترقیاتی اخراجات میں بھی کمی ریکارڈ ہوئی۔ معاشی ترقی میں متوقع سست روی سے میکرو اکنامک عدم توازن کم ہو سکتا ہے،عالمی معیشت بھی سست روی، بلند افراط زر اور مالیاتی سختی کا شکار ہے۔

inflation

Monthly Economic Outlook Report

Tabool ads will show in this div