آپ گواہ رہنا،میں جج زیباچوہدری کی عدالت میں معافی مانگنے آیا تھا،عمران خان

دفعہ 144 کیس میں ضمانت منظور
<p>فائل فوٹو : اسلام آباد عدالت آمد کے موقع پر لی گئی تصویر</p>

فائل فوٹو : اسلام آباد عدالت آمد کے موقع پر لی گئی تصویر

سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے چیئرمین عمران خان نے عدالتی ریڈر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ گواہ رہنا، میں یہاں جج زیبا چوہدری صاحبہ سے معافی مانگنے آیا تھا۔

پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے چیئرمین عمران خان آج بروز جمعہ 30 ستمبر کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے کیس میں ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال کی عدالت میں پیش ہوئے۔

عمران خان کی آمد کے موقع پر عدالت کے اطراف میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ سابق وزیراعظم اپنے وکیل بابر اعوان کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔

آج ہونے والی سماعت میں سابق وزیراعظم عمران خان عدالتی حکم پر ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے۔

ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے بابر اعوان کو وقت پر عدالت آنے پر سراہا اور کہا کہ اچھا لگا وقت پر آئے، نوجوانوں کو بھی یہی پیغام دینا چاہیے۔ فاضل جج کے ریمارکس پر بابر اعوان نے ساتھی وکلاء کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں سنو، وقت کی پابندی کرو۔

اس موقع پر عدالت نے عمران خان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے پولیس کو سابق وزیراعظم کی گرفتاری سے روک دیا۔ عدالت کی جانب سے ضمانت 5 ہزار مچلکوں کے عوض منظور کی گئی۔

دوسری جانب عمران خان ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری کی عدالت میں پیش ہوئے۔ پولیس نے جوڈیشل مجسٹریٹ زیبا چوہدری کی عدالت کا کمرہ بند کر دیا۔

عدالت کے عملے نے انہیں بتایا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ زیبا چوہدری رخصت پر ہیں۔ عمران خان نے ریڈر سے کہا کہ آپ نے زیبا چوہدری صاحبہ کو بتانا ہے کہ عمران خان آئے تھے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے ریڈر سے کہا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ زیبا چوہدری سے معافی مانگنے آیا ہوں، ریڈر آپ گواہ رہنا، میں آیا تھا معافی مانگنے۔ جس کے بعد عمران خان وکیل کے ہمراہ واپس چلے گئے۔

IMRAN KHAN

section 144

JUDGE ZEBA CHAUDHARY

Tabool ads will show in this div