پاکستان میں 12سے 15سال کے بچے بھی ذیابطیس میں مبتلا

بچوں میں ٹاپ ٹو ذیابطیس تیزی سے پھیلنے لگا

پاکستان میں ذیابطیس کے مرض نے تباہی پھیلانا شروع کردی۔ ماہرین کہتے ہیں کہ مریضوں کی تعداد 4 کروڑ سے بھی تجاوز کر گئی، اب 12 سے 15 سال کی عمر کے بچے بھی ٹائپ 2 ذیابطیس میں مبتلا ہونا شروع ہوچکے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار ماہرین امراض ذیابطیس نے جمعرات کو ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان ذیابطیس کے پھیلاؤ کی شرح میں دنیا میں پہلے نمبر پر ہے، اگر اب سروے کیا جائے تو پاکستان میں ذیابطیس کے مریضوں کی تعداد 4 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہوگی، اس تعداد میں بچے شامل نہیں کیونکہ اب پاکستان میں 12 سے 15 سال کی عمر کے بچے بھی ٹائپ ٹو ذیابیطس کے ساتھ اسپتال آرہے ہیں جو انتہائی تشویشناک بات ہے۔

نارتھ ناظم آباد کراچی میں عہد میڈیکل سینٹر اینڈ فارمیسی کی نئی برانچ کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طبی ماہرین کا کہنا تھا کہ 2019ء میں ملک کے 3 کروڑ 33 لاکھ افراد ذیابطیس کا شکار تھے اور ان میں ایک بڑی تعداد ایسی ہے جنہیں اپنی بیماری کا علم ہی نہیں ہے۔

عہد میڈیکل سینٹر کا افتتاح ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر سعید قریشی، معروف ماہر امراض ذیابطیس اور ڈائیبیٹک فُٹ ڈاکٹر سیف الحق، فارمیوو کے ڈپٹی سی او سید جمشید احمد نے کیا۔

اس موقع پر پروفیسر سعید قریشی نے کہا کہ برانچ کو ڈائبٹیزاسپیشلائز سینٹر بنانا خوشی کی بات ہے، یہاں فُٹ کلینک بھی موجود ہے، امید ہے کہ عہد میڈیکل سینٹر ذیابطیس کے شکار لوگوں کے پاؤں کٹنے سے بچانے میں معاون ثابت ہوگا۔

پروفیسر سعید قریشی نے کہا کہ کسی بھی ملک کے صحت کے نظام کی بنیاد پرائمری کیئر ہوتی ہے، اس طرح کے کلینک اور سینٹر دنیا بھر میں پرائمری کیئر کیلئے ماڈل تصور کئے جاتے ہیں کیونکہ صحت کی تمام تر سہولیات کوئی بھی حکومت فراہم نہیں کرسکتی، اس کیلئے پرائیویٹ سیکٹر بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مجموعی طور پر صورتحال خراب ہے، ڈاؤ یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات اور اساتذہ بھی میڈیکل کیمپ منعقد کرچکے ہیں اور ٹیسٹ بھی کئے ہیں، ان علاقوں میں انفیکشیئس ڈیزیز کے مسائل زیادہ ہیں، ڈینگی اور ملیریا کے کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔

معروف ماہر امراض ذیابطیس ڈاکٹر سیف الحق نے کہا کہ پاکستان ذیابطیس کے پھیلاؤ کی شرح میں دنیا میں پہلے نمبر پر ہے، اگر اب سروے کیا جائے تو پاکستان میں ذیابطیس کے مریضوں کی تعداد 4 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہوگی، اس تعداد میں بچے شامل نہیں، پاکستان میں 12 سے 15 سال کی عمر کے بچے بھی ذیابطیس ٹائپ ٹو کے ساتھ اسپتال آرہے ہیں جو انتہائی تشویشناک بات ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے ہم پڑھاتے تھے کہ بچہ اگر ذیابطیس کا شکار ہے تو وہ ٹائپ ون ہوگا اور آنکھیں بند کرکے یہ کہا جاتا تھا 18 یا 20 سال سے کم عمر ہے تو یہ ٹائپ ون ذیابطیس ہی ہوگا، لیکن اب پاکستان میں صورتحال یکسر تبدیل ہوگئی ہے، اب چھوٹے بچے، 12 سال سے 15 سال کے بچے جن کا وزن زیادہ ہے وہ ٹائپ ٹو ذیابطیس کے ساتھ اسپتال اور کلینک آرہے ہیں۔

ڈاکٹر سیف الحق نے بتایا کہ ٹائپ ٹو ذیابطیس لائف اسٹائل سے تعلق رکھتی ہے، پہلے اسکولوں کے بچے دبلے پتلے نظر آتے تھے اور اب موٹاپے کا شکار ہوتے ہیں، یہی بچے آگے جاکر ذیابطیس کا شکار ہوجاتے ہیں اور ہم روزانہ کی بنیاد پر جو کلینک کرتے ہیں اس میں بچے آرہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس وقت کتنے بچے ذیابطیس کا شکار ہوں گے، اس کا ڈیٹا موجود نہیں اور اس پر کام کی ضرورت ہے، اگر بچوں اور پری ڈائیبیٹک افراد کو شامل کرلیں تو پاکستان میں ذیابطیس کے شکار افراد کی تعداد کہیں زیادہ ہوگی۔

ماہر امراض ذیابطیس کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جو اعداد و شمار پیش کئے جاتے ہیں یہ ڈیٹا 2019ء کا ہے، اس لئے ہمیں پری وینشن پر کام کرنا ہوگا، اس کیلئے ہمیں نجی یکٹر کے تعاون سے ایسے مراکز قائم کرنے ہوں گے تاکہ پرائمری کیئر بہتر ہو اور لوگوں کی زندگیوں کو بچایا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں پرائمری لیول سے کام کرنا ہوگا، اسکولوں کی سطح پر کام کرنا ہوگا، نصاب میں شامل کرنا ہوگا، اسکاٹ لینڈ میں اسکولوں میں لو کیلوریز یا کم حراروں والا پیزا متعارف کروایا گیا ہے، ہمیں یہاں بھی ایسے اقدامات اٹھانے ہوں گے، حکومتی سطح پر پالیسیز بنانی ہوں گی۔

پاکستان

HEALTH

DIABETIC

Tabool ads will show in this div