پیٹرول، ڈیزل، گیس اور گندم کی فراہمی کیلئے طالبان کا بھی روس سے معاہدہ

روس نے اشیائے خور و نوش میں رعایت کی پیشکش کردی

افغان طالبان نے بھی پیٹرول، ڈیزل، گیس اور گندم کی فراہمی کیلئے روس کے ساتھ معاہدہ کرلیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغان طالبان نے پیٹرول، ڈیزل، گیس اور گندم کی فراہمی کیلئے روس کے ساتھ ایک عارضی معاہدے پر دستخط کردیے۔

افغانستان کے قائم مقام وزیر صنعت و تجارت حاجی نور الدین عزیزی نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ان کی وزارت تجارتی شراکت داری میں اضافہ چاہتی ہے، روس نے طالبان انتظامیہ کو اشیائے خور و نوش میں رعایت کی بھی پیشکش کی ہے۔

افغانستان پر اگست 2021ء کو طالبان کے کنٹرول کے بعد یہ پہلا بین الاقوامی تجارتی معاہدہ ہے۔

تاحال کسی بھی ملک نے افغانستان میں طالبان کی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا۔

روس نے بھی فی الحال باضابطہ طور پر طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا تاہم ماسکو نے اس تحریک کے رہنماؤں کی میزبانی کی ہے جبکہ کابل میں روس کا سفارتخانہ بھی کام کر رہا ہے۔

نور الدین عزیزی نے بتایا کہ اس معاہدے کے تحت روس 10 لاکھ ٹن پیٹرول، 10 لاکھ ٹن ڈیزل، 5 لاکھ ٹن ایل پی جی اور 20 لاکھ ٹن گندم سالانہ فراہم کرے گا۔

افغان وزیر کا مزید کہنا تھا کہ معاہدہ تجرباتی بنیاد پر غیرمعینہ مدت کیلئے کام کرے گا، اگر دونوں ممالک معاہدے کے معلامات اور انتظامات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہیں تو پھر طویل المدتی معاہدے پر دستخط ہوں گے۔

انہوں نے بتایا کہ روس نے اشیائے خور و نوش کے حوالے سے رعایت دینے پر اتفاق کیا ہے، افغانستان کو پیٹرول، ڈیزل، گیس اور گندم سڑکوں و ریل کے ذریعے فراہم ہوگا۔

حاجی نور الدین عزیزی کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی اعداد و شمار کے مطابق زیادہ تر افغان شہری خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔

افغانستان

RUSSIA

TRADE AGREEMENT

Tabool ads will show in this div