آڈیو لیکس کی طرح سائیفر کو قوم کے سامنے لے آؤ،عمران خان کا مطالبہ

آڈیو لیک کرنا آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے خلاف ہے، عمران خان

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ آڈیو لیکس کی طرح سائیفر کو قوم کے سامنے لے آؤ۔

اسلام آباد میں سیمینار سے خطاب کے دوران عمران خان نے کہا کہ معیشت ہمیشہ خارجہ پالیسی سے جُڑی ہوتی ہے، 1960 کی دہائی میں پاکستان نے بڑی ترقی کی لیکن اس کے بعد ہم غلط راستے کی طرف نکل گئے۔ صنعتوں اور بینکوں کو قومیا لیا گیا۔

چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ 1980 کی دہائی میں ہم نے سوچا کہ ہم دوسروں کی جنگ میں شامل ہوجائیں گے تو ڈالر ملیں گے، امداد پر انحصار نے ہم نے خود پر بہت بڑا ظلم کیا۔ اس سے ہماری خارجہ پالیسی پراثر پڑا۔ جب کوئی ملک اپنے خرچے خود نہیں اٹھاتا وہ غلام بن جاتا ہے۔ ہم نے قومی سلامتی پالیسی بنائی تھی جس میں ہم نے قومی سلامتی اور معیشت کو ایک ساتھ منسلک کردیا۔ جب تک آپ معاشی طور پر مضبوط نہیں ہوسکتے آزاد فیصلے نہیں کئے جاسکتے۔

اسحاق ڈار کو نوسرباز قرار دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ وزیر خزانہ کا کام آمدنی بڑھانا اور خرچے کم کرنا ہوتا ہے، آمدنی اور اخراجات کو متوازن کرنے کے لیے برآمدات بڑھانی پڑیں گی لیکن اس شخص نے ایسا نہیں کیا۔ ایک جانب ہماری برآمدات نہیں بڑھیں اور دوسری جانب جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمت آدھی تھی تو ہمیں اپنی برآمدات بڑھانی تھی۔ کرپٹ مافیا کی کوشش ہے کہ سارا پیسہ باہر لے جاؤ۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ’حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے یہ جو لوگ ملک کے محافظ ہیں کیا ان کو نظر نہیں آرہا کہ ملک کے ساتھ کیا ہورہا ہے‘، ملک کے اداروں پر غیر ضروری تنقید نہیں کرنا چاہتا۔ یہ کون سی سوچ ہے جو ان دونوں خاندانوں کو ہم پر پھر مسلط کررہی ہے۔ جو بھی یہ کررہے ہیں وہ پاکستان کے خیر خواہ نہیں۔ اس سے بڑی غداری نہیں ہوسکتی۔

عمران خان نے کہا کہ معاشی مسائل تو ایک جانب ہم ملک کی اخلاقیات بھی تباہ کررہے ہیں، جب ملک میں نامور ڈاکوؤں کو آنے دیتے ہیں اور وہ 1100 ارب روپے کے کیسز معاف کروائیں، انہوں نے 5 ماہ میں پاکستان کے ساتھ جو کیا وہ دشمن بھی نہیں کرسکتا تھا۔

سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستانیوں کے پاس بہت پیسہ ہے ہمارے لئے قرض واپس کرنا کوئی مشکل نہیں لیکن اس کے لئے پہلے ہمیں ایک قوم بننا ہوگا۔ ’’قوم فیصلہ کربیٹھی ہے لیکن ایجنسیز کھڑی ہوگئیں چوروں کے ساتھ‘‘۔

انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے لوگوں کو اٹھالیا جاتا ہے، دھمکیاں دی جاتی ہیں، ان کے خلاف کھڑے ہونے کا یہی وقت ہے، نامعلوم کالز سے ڈرانے والے کو دھمکائیں، اس ملک کا قانون ہمیں تحفظ دیتا ہے۔ ہم ٹیکس دیتے ہیں، ’’ایک تنخواہ دار آدمی میرے ٹیکس کے پیسوں سے کام کررہا ہے اور وہ مجھے ہی دھمکیاں دیتا ہے‘‘۔ قوم جب تک غلام رہے گی جب تک وہ غلامی قبول کرلیں، جب قوم فیصٓلہ کرلیتی تو کوئی اس کے سامنے کھڑا نہیں ہوسکتا۔

آڈیو لیکس سے متعلق عمران خان نے کہا کہ آڈیو شہباز شریف کے دفتر نے میرا اور اعظم خان کی گفتگو لیک کردی ہے، یہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے خلاف ہے۔ سوچ رہا ہوں کہ شہباز شریف کو اس چیز پر عدالت لے کر جاؤں یا 16 ارب کی چوری پر عدالت لے جاؤں، ان کے جرائم کی کتابیں ہیں، اب سائیفر کو بھی قوم کے سامنے لے آؤ۔

چیف الیکشن کمشنر سے زیادہ گھٹیا آدمی نہیں دیکھا۔ وہ ایک بھگوڑے، چور اور کرپٹ انسان سے حکم لے رہا ہے کہ ہمارے استعفے کب منظور کرنے ہیں۔ یہ ثابت ہوگیا کہ چیف الیکشن کمشنر ان کا نوکر ہے، ہم اس کو عدالت میں لے کر جائیں گے۔

IMRAN KHAN

AUDIO LEAK

Tabool ads will show in this div