قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس: آڈیو لیکس معاملے کی تحقیقات کیلئے کمیٹی کی تشکیل کی منظوری

اعلیٰ اختیارات کمیٹی کی سربراہی رانا ثناء اللہ کریں گے

وزیراعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے شرکاء نے آڈیو لیکس پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے معاملے پر رانا ثناء اللہ کی سربراہی میں تحقیقات کیلئے اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دیدی، ساتھ ہی سیکیورٹی، سیفٹی اور سرکاری کمیونیکیشنز کے محفوظ ہونے کو یقینی بنانے کا جائزہ لینے پر اتفاق کیا گیا۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس بدھ کو وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزراء کے علاوہ سروسز چیفس، حساس اداروں کے سربراہان اور دیگر اعلیٰ سول و فوجی حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملک میں تاریخی تباہ کن سیلاب متاثرین کیلئے ریسکیو ریلیف کے اقدامات اور سلامتی کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

حساس اداروں کے سربراہان نے اجلاس کو وزیراعظم ہاؤس سمیت دیگر اہم مقامات کی سیکیورٹی، سائبر اسپیس اور اس سے متعلقہ دیگر پہلوؤں پر تفصیلی بریفنگ دی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ سوشل میڈیا پر زیرگردش آڈیوز کے معاملے پر تحقیقات کی جارہی ہیں، وزیراعظم ہاؤس کی سیکیورٹی سے متعلق بعض پہلوؤں کی نشاندہی کی گئی اور ان کے تدارک کیلئے فول پروف انتظامات کے بارے میں بتایا گیا۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ وزیراعظم ہاؤس سمیت دیگر اہم مقامات، عمارات اور وزارتوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کیلئے ہنگامی اقدامات کئے جارہے ہیں تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کی کسی صورتحال سے بچا جاسکے۔

قومی سلامتی کمیٹی نے مشاورت کے بعد سائبر سیکیورٹی سے متعلق ’’لیگل فریم ورک‘‘ کی تیاری کا فیصلہ کیا اور اس ضمن میں وزارت قانون وانصاف کو لیگل فریم ورک کی تیاری کی ہدایت کی۔

قومی سلامتی کمیٹی نے آڈیو لیکس کے معاملہ کی تحقیقات کیلئے اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دی، وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ خان کمیٹی کے سربراہ ہوں گے۔

قومی سلامتی کمیٹی نے اتفاق کیا کہ جدید ٹیکنالوجی اور سائبر اسپیس کے موجودہ تبدیل شدہ ماحول کے تناظر اور تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سیکیورٹی، سیفٹی اور سرکاری کمیونیکیشنز کے محفوظ ہونے کو یقینی بنانے کا جائزہ لیا جائے تاکہ سیکیورٹی نظام میں کوئی رخنہ اندازی نہ ہو سکے۔ قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں 14 جون 2022ء سے ملک بھر میں سیلاب سے ہونیوالی اموات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کیا گیا اور فاتحہ خوانی کی گئی۔

قومی سلامتی کمیٹی نے 3 کروڑ30 لاکھ سے زائد سیلاب متاثرین کی فوری امداد، محفوظ مقامات پر منتقلی، خوراک، علاج معالجے اور ضروری اشیاء کی فراہمی کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔

قومی سلامتی کمیٹی نے سیلاب متاثرین کی زندگیاں بچانے، متاثرین کی محفوظ علاقوں میں منتقلی اور سیلاب میں گھرے افراد تک خوراک اور دیگر اشیاء کی فراہمی بشمول ایڈمنسٹریشن اور اداروں کے ساتھ خاص طورپر آرمی، نیوی اور فضائیہ کے کردار پر خراج تحسین پیش کیا اور مشکل ترین حالات میں خدمت کے جذبے کو سراہا۔

کمیٹی نے سول سوسائٹی، میڈیا اور مخیر حضرات کے جذبے اور ایثار کی بھی بھرپور تحسین کی اور اس توقع کا اظہار کیا کہ اس کارخیر میں وہ اسی جذبے سے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔

قومی سلامتی کمیٹی نے سیلاب متاثرین کی مدد کے دوران بلوچستان، لسبیلہ میں آرمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹر کے حادثے میں شہید ہویوالے افسروں اور جوانوں کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ قوم اپنے شہداء اور ان کے اہلخانہ کو سلام پیش کرتی ہے۔

کمیٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سیلاب متاثرین کی امداد اور بحالی ایک قومی ایجنڈے کے طورپر اولین ترجیح رہے گی اور اہل وطن کی دوبارہ آبادکاری تک اِسی جذبے، توجہ اور اشتراک عمل کو برقرار رکھتے ہوئے خدمات اور اقدامات کا سلسلہ جاری رہے گا۔

سیکرٹری خارجہ سہیل محمود نے وزیراعظم کے ازبکستان میں حالیہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی سربراہان مملکت کی کونسل اور نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77 ویں اجلاس میں شرکت کے حوالے سے اجلاس کو بریفنگ دی۔

انہوں نے مختلف ممالک کے سربراہان سے وزیراعظم کی ہونے والی ملاقاتوں کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔

مزید جانیے: صرف کھيلنا ہے امريکا کا نام نہيں لينا، عمران خان کی پرنسپل سیکریٹری سے مبینہ آڈیو لیک

خیال رہے کہ آج پریس کانفرنس کے دوران آڈیو لیکس سے متعلق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آڈیو لیکس کا معاملہ بہت سنجیدہ ہے، اس طرح کے سیکیورٹی بریچ بہت بڑا سوالیہ نشان ہیں، یہ وزیراعظم ہاؤس کی نہیں ریاست پاکستان کے وقار کی بات ہے، کمیٹی بنارہا ہوں، جو اس معاملے کی تہہ تک پہنچے گی، حقائق عوام کے سامنے رکھیں گے۔

وزیراعظم ہاؤس سے مبینہ آڈیو لیک کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کرانے کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم ہاؤس کے عملے کو بھی شامل تفتیش کیا جائے گا۔ ٹیم جائزہ لے گی کہ واقعے کے وقت کون کون وزیراعظم ہاؤس میں موجود تھا، سیکیورٹی پر مامور سول ادارے کا ڈائریکٹوریٹ بھی شامل تفتیش ہوگا۔

nsc

PM house

AUDIO LEAK

Greg Sep 29, 2022 03:51am
It is actually a great and helpful piece of information. I am happy that you just shared this helpful info with us. Please stay us informed like this. Thanks for sharing. How to pump the press webpage pump muscle
Tabool ads will show in this div