پاکستان سے تعلقات کوبھارت سے تعلقات کی بنیاد پرنہیں دیکھتے،امریکا

امریکا پاکستان تعلقات میں استحکام پر بھارت بلبلا اٹھا

امریکی محکمہ خارجہ ( US State Department ) نے واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ( Pakistan ) اور بھارت ( India ) سے تعلقات کی نوعیت اور مفادات مختلف ہیں۔ امریکا پاکستان سے تعلقات کو بھارت سے تعلقات کی بنیاد پر نہیں دیکھتا ہے۔

امریکا پاکستان تعلقات میں استحکام پر بھارت بلبلا اٹھا۔ بھارتی وزیرخارجہ جے شنکر نے پاکستان کے لیے ایف سولہ ( F-16 Fighter Jets ) پروگرام میں امریکا کی مدد پر واویلا کیا اور جب دفتر خارجہ امریکا کے ترجمان نیڈ پرائس سے سوال ہوا تو انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان سے تعلقات کو بھارت سے تعلقات کی بنیاد پر نہیں دیکھتے۔

امریکی محکمہ خارجہ میں پیر 26 ستمبر کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان نیڈ پرائس سے سوال کیا گیا کہ بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے تبصرے بنیادی طور پر امریکا سے پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظرثانی کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں اور اس حقیقت پر تنقید کرتے ہیں کہ آپ نے حال ہی میں ایف سولہ پروگرام کے لیے پاکستان کو 450 ملین ڈالر کے فنڈز کی منظوری دی ہے۔

جس پر ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نیڈ پرائس نے کہا کہ پاکستان اور بھارت دونوں سے تعلقات کی نوعیت اور مفادات مختلف ہیں، ہم تو یہ بھی چاہتے ہیں کہ دونوں پڑوسی جتنا جلد ممکن ہو آپس میں تعمیری تعلقات کو فروغ دیں۔ انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان سے اپنے تعلقات کو الگ اور بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کو الگ دیکھتے ہیں۔ یہ دونوں ہمارے شراکت دار ہیں، جس میں ہر ایک میں مختلف نکات پر زور دیا جاتا ہے، اور ہم دونوں کو شراکت دار کے طور پر دیکھتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس بہت سے معاملات میں مشترکا اقدار ہیں، بہت سے معاملات میں ہمارے مشترکا مفادات ہیں اور بھارت کے ساتھ ہمارے تعلقات اپنے طور پر قائم ہیں۔ پاکستان کے ساتھ ہمارا جو رشتہ ہے وہ اپنے طور پر قائم ہے۔

واضح رہے کہ بھارت کے وزیر خارجہ جے شنکر نے گزشتہ روز اپنی تقریر میں پاکستان کے ایف سولہ پروگرام کی مد میں ملنے والی امریکا کی سرمایہ کاری پرتنقید کی تھی اور اس پر سوال اٹھایا تھا کہ پاکستان امریکا تعلقات کے میرٹس اور مفاد کیا ہیں؟۔

صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ پاکستانی فوج، وہاں کی اسٹیبلشمنٹ، اسی طرح کی تھی جس کے بارے میں امریکی سیکریٹری سے پچھلے سال پوچھا جا رہا تھا۔ تو کیا اس کا جائزہ لیا گیا تھا اور خاص طور پر، میرے خیال میں، نہ صرف 20 سالوں میں بلکہ جنگ کے آخری مرحلے میں، کیا پاکستان نے طالبان کی اس طرح مدد کی جس سے انہیں کابل میں آنے کا موقع ملا؟ کیا یہ ایسی کسی چیز کا جائزہ لیا گیا تھا؟ کیا کوئی نتیجہ نکلا تھا؟ کیا تعلقات پر اس کا کوئی اثر ہوا؟

جس پر ترجمان نے کہا کہ جب بات ہمارے سیکیورٹی پارٹنرز کی ہو، تو ہم ہمیشہ ان کی کارروائیوں اور ان کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ تاہم میں آپ کو تفصیل سے اس متعلق بیان کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں کہ ہمیں کیا کابل میں افغان طالبان کی حکومت واپس لانے سے متعلق مشاہدے میں کیا ملا۔ تاہم سب سے اہم بات یہ ہے کہ جیسا کہ مجھے یقین ہے کہ سیکریٹری نے اس وقت کہا تھا اور یہ اب بھی درست ہے، کہ افغانستان میں عدم استحکام اور تشدد کو دیکھنا پاکستان کے مفاد میں نہیں تھا۔ افغانستان۔ پاکستان اس بات کا حامی ہے کہ پرامن اور مستحکم افغانستان نہ صرف خطے بلکہ خود پاکستان کیلئے بھی اہم ہے۔

افغانستان کے لوگوں کی حمایت وہ چیز ہے جس پر ہم اپنے پاکستانی شراکت داروں کے ساتھ باقاعدگی سے تبادلہ خیال کرتے ہیں- بلاشبہ، پاکستان نے بہت سے وعدوں پورے کیے ہیں- ہم ان چیزوں کا بھی بغور جائزہ لیتے ہیں کہ افغان شہریوں کی زندگی اور معاش کو بہتر بنانے کے لیے ہماری کوششیں کس حد تک کارآمد رہی ہیں، جب کہ افغان طالبان افغان عوام کے ساتھ کیے گئے وعدوں کیسے پورا اترتے ہیں۔

F-16

US STATE DEPARTMENT

indian foreign minister

NED PRICE

Tabool ads will show in this div