صدر مملکت نے آڈیو لیکس کے واقعات کو تشویشناک رجحان قرار دے دیا

نجی گفتگو کا لیک ہونا "غیبت" کے زمرے میں آتا ہے ، ڈاکٹر عارف علوی

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آڈیو لیکس کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نجی گفتگو کا لیک ہونا ”غیبت“ کے زمرے میں آتا ہے، اس کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔

گورنر ہاؤس کراچی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا ہر شخص کی پرائیویسی ایک امانت ہے جسے برقرار رکھا جانا چاہیے۔ نجی گفتگو یا تبصرے کو لیک کرنا اور جعلی خبریں پھیلانا غیراخلاقی ہے۔ ایسی چیزوں سے معاشرے میں خوف و ہراس پھیلتا ہے۔

ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کے باعث معلومات کےلیک ہونے میں اضافہ ہوا ہے، اس طرح کے معاملات کی حوصلہ شکنی کرنے کی ضرورت ہے۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کو ضروری معلومات اور علم کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ سیاسی حریفوں کے ساتھ عوامی پلیٹ فارم پر مہذب رویے اختیار کرنے پر بھی زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ ذاتی حیثیت میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو قریب لانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ ملک کو سیلاب اور نازک معاشی صورتحال جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ ایسے حالا ت میں اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مقصد پر متحد ہونا ضروری ہے۔

صدر مملکت نے امداد کی منصفانہ اور شفاف تقسیم کے لئے فول پروف نظام قائم کرنے اور چوری روکنے کے لئے ایک طریقہ کار وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ حکومت کی جانب سے قرضوں میں رعایت حاصل کرنے جیسی کوششیں بار آور ثابت ہوں گی جس سے سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے وسائل فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔

ڈاکٹر عارف علوی نے فلاحی اداروں، سول سوسائٹی اور عالمی برادری سے سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے دل کھول کر عطیات دینے کی اپیل کا بھی اعادہ کیا۔

president arif alvi

AUDIO LEAK

Tabool ads will show in this div