سیلاب زدگان کے ٹینٹ سٹی میں بھی مسائل کاانبار،امراض اورغذائی قلت دہراامتحان

سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد1600 سے متجاوز
<p>بشکریہ اے ایف پی</p>

بشکریہ اے ایف پی

جیکب آباد میں سیلاب متاثرین کے لیےعارضی ٹینٹ سٹی تو قائم کیا گیا مگر متاثرین کا کہنا ہے انہیں راشن ملتا ہے اور نہ ہی صحت کی بنیادی سہولیات میسر ہیں۔ ٹینٹ سٹی میں طبی امراض نے بھی جنم لے لیا ہے۔

وبائی امراض

جیکب آباد میں وبائی امراض کے وار جاری ہیں، جہاں مزید ایک بچہ جاں بحق ہوگیا۔ گاؤں رمضان جکھرانی کا 10 سالہ بچہ ملیریا میں مبتلا تھا۔ حالیہ سیلاب کے بعد ضلع بھر میں اب تک مرنے والوں کی تعداد 110 ہوگئی ہے۔

جیک آباد کے ٹینٹ سٹی میں موجود سیلاب زدگان دوہائیاں دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ حکومت کی توجہ ہماری جانب نہیں ہے۔ سندھ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران طبی کیمپوں میں لوگوں کے آنے کا سلسلہ جاری رہا، بیماریوں کے پھیلاؤ کے خطرات اب بھی صوبے میں موجود ہیں اور سانس کی تکلیف میں مبتلا ایک اور بچہ چل بسا۔

صوبائی حکومت

دوسری جانب صوبائی محکمہ صحت کے مطابق صوبے بھر میں قائم طبی کیمپوں میں تقریبا 71 ہزار 398 افراد علاج کے لیے آئے، جنہوں نے زیادہ تر شکایات پانی سے جنم لینے والی بیماریوں سے متعلق کی جو سیلاب کے بعد اب تک کھڑا ہے۔ صوبائی محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق جو ہزاروں افراد علاج کے لیے آئے ان میں زیادہ تعداد سانس کی شدید تکلیف میں مبتلا افراد کی تھی جو 13 ہزار 989 ظاہر کی گئی۔

اسی طرح 12 ہزار 777 افراد نے اسہال اور 13 ہزار 672 افراد نے جلدی امراض کی شکایت کی، 8 ہزار 515 نے ملیریا کے خدشات کا اظہار کیا جب کہ 415 میں ملیریا اور 33 میں ڈینگی کی تصدیق ہوئی، دیگر 22 ہزار 413 افراد دیگر بیماریوں میں مبتلا تھے، یکم جولائی سے اب تک مجموعی طور پر 30 لاکھ بے گھر افراد کو طبی امداد دی گئی۔

سندھ میں ملک کے شمال اور بلوچستان کے پہاڑی علاقوں سے سیلاب آیا جس کی وجہ سے صحت کے بحران نے جنم لیا، ہزاروں بے گھر افراد میں ڈینگی اور پانی سے جنم لینے والی بیماریاں دیکھی گئیں۔

دادو سول اسپتال کے ڈاکٹر کے مطابق ضلع کے تقریباً 5 ہزار افراد کو گزشتہ چند دنوں میں اسپتال لایا گیا۔

نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں سیلاب کی وجہ سے مزید 10 افراد انتقال کر گئے، جس کے بعد جون کے وسط سے اب تک جاں بحق افراد کی تعداد ایک ہزار 606 ہوگئی۔ نیشنل فلڈ رسپانس اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر این ایف آر سی سی ) نے اپنی روزانہ کی اپڈیٹ میں بتایا کہ سیلاب سے شدید متاثرہ اضلاع میں قمبر شہداد کوٹ، جیکب آباد، لاڑکانہ، خیرپور، دادو، نوشہرو فیروز، ٹھٹہ اور بدن شامل ہیں، جب کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں کوئٹہ، نصیر آباد، جعفر آباد، جھل مگسی، بولان، صحبت پور، لسبیلہ، دیر، سوات، چارسدہ، کوہستان، ٹانک اور ڈیرہ اسمعٰیل خان میں زیادہ نقصانات ریکارڈ کیے گئے۔

زرعی قرضوں کی وصولی مؤخر

درین اثنا، وفاقی وزیر برائے آبی وسائل خورشید شاہ نے کہا کہ کسانوں سے زرعی قرض کی ادائیگیاں مؤخر کرنے کے لیے وہ وزیر اعظم سے بات کریں گے۔

بعدازاں، وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے بھی اس بات پر زور دیا اور کہا کہ کسانوں کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کسانوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے سندھ حکومت نے اگلے سال کی فصل کے لیے گندم کی امدادی قیمت 4 ہزار روپے فی من مقرر کی ہے اسی طرح کسان اگلے سال کی فصل کی بوائی دوبارہ شروع کر سکتے ہیں۔

اسلام آباد اور پنجاب میں بارش کا امکان

پنجاب پراونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے کہا ہے کہ محکمہ موسمیات نے دریائے ستلج کے بالائی علاقوں میں موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ پی ڈی ایم اے نے کہا کہ اسلام آباد، راولپنڈی، سرگودھا، گجرانوالا، لاہور، فیصل آباد اور ساہیوال ڈویژن کے ساتھ دریائے سندھ، جہلم، چناب اور راوی کے بالائی علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ ہلکی بارش کا امکان ہے۔

پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ بارش کی وجہ سے دریاؤں میں پانی کی سطح میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ پی ڈی ایم اے نے ان علاقوں کے قریب رہنے والے لوگوں کے لیے احتیاطی تدابیر بھی جاری کی ہیں اور انتظامیہ کو محفوظ مقامات اور ریلیف کیمپ تیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ محکمہ صحت کی جانب سے متاثرین کو ابتدائی طبی امداد کی فراہمی کے لیے ہیلتھ ٹیموں کو متحرک کرنے کی ہدایت دی گئی ہے اور بارش سے ہونے والی بیماریوں سے بچنے کے لیے مخصوص مقامات پر طبی اسپرے یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

1790 کا تاریخی پل بھی تباہ

طوفانی بارش نے جہاں لاکھوں افراد کو بے گھرکیا، لاکھوں ایکڑ زرعی زمینوں پر کھڑی فصلیں تباہ کیں وہیں ٹنڈوالہٰ يار میں سترہ سو نوے میں بنائے گئے تاریخی پل کو بھی نقصان پہنچایا۔ سیلابی صورت حال کے باعث قدیمی آثارمسمار ہونے لگے ہیں۔

کشتیوں کے ذریعے آمد و رفت

تھرپارکر اور میرپورخاص کو ملانے والی میں سڑک ایک ماہ سے بند ہے جس کے باعث مسافر اور علاقہ مکین کشتیوں کے ذریعے ایل بی اوڈی کراس کرتے ہیں۔

چترال سیلاب

سیلاب میں جہاں املاک اور انفرا اسٹرکچر کو نقصان پہنچا وہیں اپر چترال میں مسلسل دو ہفتوں کی بارشوں سے کھڑی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں، جب کہ آنے والی سردیوں میں انسانی خوراک کے ساتھ مال مویشیوں کیلئے چارے کا بھی سنگین مسئلہ درپیش ہونے کا خدشہ ہے۔

مقامی افراد کے مطابق ہم بالائی علاقوں میں فصلوں کی کٹائی کے بعد تھریشنگ کے انتظار میں تھے کہ مسلسل موسلا دھار بارشوں کے نتیجے میں فصلیں تباہ ہوئیں، جو کہ آنے والی سردیوں میں استعمال ہونا تھا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقہ مکین اپنی خوراک اور مال مویشیوں کی خوراک سے بھی محروم ہوگئے ہیں۔

Tabool ads will show in this div