حکومت پنجاب کا11 ہزار سے زائد گھر گرانے کا منصوبہ تیار

6 لاکھ رہائشی شدید پریشانی کا شکار

تحریک انصاف کا ’’صاف چلی شفاف چلی‘‘ کا نعرہ صرف نعروں تک محدود ہے، عوام کو حقیقی آزادی کے نام پر ورغلانے والے عمران خان عوام کے حقوق کی حفاظت کرنے کے بجائے غریبوں کی زمینوں کے درپے ہیں۔

گھر بنانے کے دعویدار گھروں کو گرانے لگے ہیں، اور اس گھناؤنے کھیل اور مبینہ کرپشن میں میاں اسلم اقبال، ایس ایم عمران اور گوہر اعجاز اپنے چیئرمین عمران خان کے سہولت کار بن گئے ہیں۔

عمران خان کے حکم پر راوی اربن ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں، اس حوالے سے کسانوں سے زمین چھین کر کاروباری افرادکونوازنے کا کام عروج پر ہے۔

راوی اربن پروجیکٹ کی زد میں آنے والے 6 لاکھ رہائشی شدید پریشانی کا شکار ہیں، جب کہ حکومت پنجاب نے11 ہزار سے زائد گھر گرانے کا منصوبہ تیار کررکھا ہے، اور متاثرین کو دوبارہ بسانے کیلیے 300 ارب روپے درکار ہوں گے۔

پنجاب حکومت کی جانب سے مقامی افراد سے 8 لاکھ کنال زمین حاصل کرنےکا پلان تیار کرلیا گیا ہے، اور ایک درجن گروپس کی 4 ہزارارب روپے کی سرمایہ کاری پر نظر ہے۔

رپورٹ کے مطابق پہلے مرحلے میں 1700ارب روپے کا اخراجات کا منصوبہ ہے، یہ زمینیں شیخوپورہ، فیروز والا اور شاہدرہ کے گردونواح میں ہیں، اور 2 ہزار ایکڑ زمین مقامی رہائشیوں سے لی جاچکی ہے۔

روڈا کمرشل منصوبے کو پنجاب حکومت نے مفاد عامہ کا نام دے دیا ہے، اور اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں 2 درجن زونز بنائے جائیں گے۔

مقامی زمیندار، ماحولیات کے ماہرین اور ٹاؤن پلاننگ ماہرین منصوبےکے مخالف ہیں، لیکن روڈا نے کسانوں سے زمین خریدنے کے لیے5ارب روپےقرض لے لیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پہلے مرحلے میں ساڑھے 3 لاکھ کنال زمین حاصل کرنےکا منصوبہ ہے، منصوبے کی تکمیل پر 500 ارب کا تخمینہ لگایا گیا ہے، تاہم کیس عدالت میں ہونے کی وجہ سے منصوبے پرکام رکا ہوا ہے۔

چہار باغ میں پلاٹس کی پہلی قرعہ اندازی بھی ہوچکی ہے، ایف ڈبلیواو،این ایل سی اورنیسپاک بھی اس منصوبےپرکام کررہی ہیں، اور روڈا نے کنٹریکٹرز کو تقریباً 7 ارب کے پروجیکٹس دیئے ہیں۔

Tabool ads will show in this div