اسکارف نہ پہننے پر ایرانی صدر کا سی این این اینکر کو انٹرویو سے انکار

ہم نیویارک میں ہیں، اینکر کا ابراہیم رئیسی کو جواب

اسکارف نہ پہننے پر ایرانی صدر نے سی این این اینکر کو انٹرویو سے انکار کردیا۔

اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کیلئے نیویارک میں موجود ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے اسکارف نہ پہننے پر امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی اینکر کو انٹرویو دینے سے انکار کردیا۔

سی این این کی چیف انٹرنیشنل اینکر کرسٹین امانپاور نے اپنے ٹوئٹ میں بتایا کہ وہ بدھ کو اقوم متحدہ کی جنرل اسمبلی کی سائیڈ لائنز پر ایرانی صدر کا انٹرویو کرنے پہنچیں تو انٹرویو سے قبل ان سے اسکارف پہننے کا مطالبہ کیا گیا۔

جس پر انہوں نے انتہائی احترام کے ساتھ ایرانی صدر کو انکار کرتے ہوئے بتایا کہ ہم اس وقت نیویارک میں ہیں جہاں سر ڈھانپنے کا کلچر ہے نہ قانون۔

واضح رہے کہ معروف خاتون صحافی کرسٹین امانپاور کے والد کا تعلق ایران سے ہے تاہم انکی پیدائش برطانیہ کی ہے اور وہ ایران کی شہریت بھی رکھتی ہیں۔

کرسٹین نے کہا کہ کسی ایرانی صدر نے اس سے قبل ایران سے باہر انٹرویوز میں سر کو ڈھانپنے کا مطالبہ نہیں کیا جس پر میں نے کہا وہ اس غیر متوقع اور ایسا عمل جس کی ماضی میں نظیر نہیں ملتی کیلئے تیار نہیں ہوسکتیں۔

انہوں نے ٹوئٹر پر اپنی ایک تصویر بھی شیئر کی جس میں وہ سر کو ڈھانپے بغیر بیٹھی ہیں جبکہ ان کے سامنے رکھی گئی دوسری نشست جس پر ایرانی صدر کو موجود ہونا تھا خالی پڑی ہے۔

واضح رہے کہ ایران میں ان دنوں مہسا امینی کی اخلاقی پولیس کی حراست کے دوران ہلاکت کے بعد سے پرتشدد احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جس میں 17 سے زائد مظاہرین جاں بحق ہوچکے ہیں۔

مہسا امینی کو ایران کی اخلاقی پولیس نے 13 ستمبر کو تہران میں سر کو نہ ڈھانپنے پر گرفتار کیا تھا اور اس دوران وہ مبینہ تشدد کی وجہ سے کوما میں چلی گئی تھیں اور تین دن ہسپتال میں زیرعلاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی تھیں۔

مہسا امینی کی ہلاکت کی خبر آتے ہی ایران میں ہنگاموں اور پر تشدد احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا جسے طاقت کے ذریعے کچلنے میں متعدد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

IRAN PRESIDENT IBRAHIM RAEESI

Tabool ads will show in this div