بلوچستان میں 80 فیصد گیس چوری کا انکشاف

بلوچستان میں گیس کا 14ارب کا نقصان ہو رہا ہے، سوئی سدرن گیس کمپنی

سوئی سدرن گیس کمپنی کے حکام نے انکشاف کیا ہے کہ بلوچستان میں گیس چوری کی شرح 80 فیصد اور اس کے نقصانات 51 فیصد ہیں۔

سینیٹرعبدالقادر کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کا اجلاس ہوا، جس میں سوئی سدرن گیس کمپنی کے حکام نے سردیوں میں بلوچستان میں گیس لوڈشیڈنگ پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مقامی گیس سپلائی میں 400ایم ایم سی ایف ڈی کمی آئی، اور بلوچستان میں گیس کا 14ارب کا نقصان ہو رہا ہے۔

حکام سوئی سدرن نے انکشاف کیا کہ سب سے زیادہ بلوچستان میں 80 فیصد گیس چوری ہو رہی ہے، سندھ میں گیس چوری کے نقصانات 10 فیصد ہیں، جب کہ بلوچستان میں گیس چوری اور نقصانات51 فیصد ہیں۔

ممبر کمیٹی سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ سردیوں میں بلوچستان میں مائنس ٹمپریچر والے علاقوں میں لوڈشیڈنگ نہیں ہونی چاہیئے، گارنٹی دیں کہ ان علاقوں میں گیس لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی۔

کمیٹی نے وزارت پیٹرولیم سے سردیوں میں گیس لوڈشیڈنگ کا پلان مانگ لیا۔

چیئرمین اوگرا مسرور خان نے پٹرولیم مصنوعات کی ڈی ریگولیشن پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ فرنس آئل اور ایچ او بی سی کو پہلے ڈی ریگولیٹ کیا جاچکا، ہرملک میں صارفین کو دیکھتے ہوئے ڈی ریگولیشن کی گئی، ہماری کوشش ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی جلد ازجلد ڈی ریگولیشن کی طرف جائیں۔

سینیٹر دنیش کمار نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ وزیر مملکت برائے پٹرولیم اجلاس کیوں نہیں آئےَ، کمیٹیوں کی کوئی افادیت اور اوقات نہیں۔

سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ ملک بحران سے گزر رہا ہے، اور ہم اس میں مگن ہیں کہ وزیراعظم کون بنے گا، ملک اس وقت ڈوب رہا ہے۔

محسن عزیز نے مزید کہا کہ ہمارا مسابقتی کمیشن سویا ہوا ادارہ ہے، مختلف سیکٹرز پر جرمانوں کے باوجود صورتحال بہتر نہیں ہوئی، ہمیں اس وقت ڈی ریگولیشن کا سوچنا بھی نہیں چاہیئے۔

چیئرمین قائمہ کمیٹی نے کہا کہ کمپنیوں کے درمیان مقابلے سے عوام کو ریلیف ملے گا۔

سینیٹر فدا محمد نے اعتراض کیا کہ ڈی ریگولیشن کے بعد اوگرا کی کیا ضرورت رہ جائے گیَ۔ جس پر چئیرمین اوگرا نے جواب دیا کہ ڈی ریگولیشن کا مطلب یہ نہیں کہ ہمارے ادارے کا کنٹرول نہیں رہے گا۔

محسن عزیز نے کہا کہ ایس ای سی پی نے سیمنٹ، اسٹیل، کاریں، فارماسیوٹیکل اور یوریا سیکٹر سمیت کس شعبے میں ایکشن لیا، ہم اس اسٹیج پر پٹرولیم مصنوعات کی ڈی ریگولیشن کیوں کرنے جارہے ہیں۔

سیکرٹری پٹرولیم علی رضا بھٹہ نے کہا کہ پاکستان میں آئل مارکیٹ کا 55 فیصد شئیر پی ایس او کا ہے، کم شیئر کے باعث دیگر کمپنیاں کارٹلائزیشن نہیں کرسکیں گی۔

سینیٹر محسن عزیز نے پیٹرولیم مصنوعات ڈی ریگولیٹ کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ کمپنیاں گٹھ جوڑ کر کے نرخ بڑھا دیں گی، مارکیٹ میں ہر دوسرے پیٹرول پمپ پر قیمت مختلف ہے، ناجائز منافع خوری بڑھے گی، ایک اور مافیا کا اضافہ ہوگا۔

Tabool ads will show in this div