عدالت کا دفترخارجہ کے وکیل کو ڈاکٹر فوزیہ صدیقی سے ملاقات کا حکم

بارہ برس میں امریکی عدالت کے فیصلے کی کاپی دفتر خارجہ کو نہیں ملی

اسلام آباد ہائی کورٹ میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور صحت سے متعلق کیس کی سماعت آج بروز جمعہ 23 ستمبر کو ہوئی۔ عدالت نے دفتر خارجہ کو اپنے محکمے کے وکیل کی ڈاکٹر فوزیہ صدیقی سے ملاقات کروانے کا حکم دے دیا ہے۔

دوران سماعت دفتر خارجہ کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹر عافیہ کے حوالے سے امریکی حکومت نے پاکستان کو دو ہزار دس میں دو آپشنز دئیے تھے، ایک ہم قیدیوں کے تبادلے سے متعلق کونسل آف یورپ کے بین الاقوامی کنونشن پر دستخط کریں، جب کہ دوسرا آپشن امریکا کے ساتھ دو طرفہ معاہدے کا تھا۔

دفتر خارجہ کے نمائندے کا یہ بھی کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ نے دو ہزار تیرہ میں اس معاہدے کی منظوری دی لیکن دو ہزار چودہ میں کونسل آف یورپ نے پاکستان کی درخواست سزائے موت کے قانون کے باعث مسترد کردی تھی۔

عدالت میں ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا کہنا تھا کہ امریکی قانون کے مطابق ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے مس ٹرائل کی درخواست مسترد ہوچکی ہے، اب صرف سزا میں تخفیف کی پٹیشن زیر التوا ہے، جس کے لیے پاکستان کو سفارتی کوششیں کرنا ہونگی۔

عدالت نے استفسار کیا کہ حکومت آگاہ کرے کہ کیس میں قانونی اور سفارتی محاذ پر کیا اقدامات اٹھا سکتی ہے۔ دفتر خارجہ کے افسر نے بتایا کہ عافیہ صدیقی کو سزا کا فیصلہ ابھی تک پاکستان کو فراہم نہیں کیا گیا جس پر عدالت نے ریمارکس دئیے حیران کن بات ہے کہ بارہ برس میں امریکی عدالت کے فیصلے کی کاپی دفتر خارجہ کو نہیں ملی۔

اس موقع پر عدالت نے دفتر خارجہ کو حکم دیا کہ اپنے محکمے کے وکیل کی ڈاکٹر فوزیہ صدیقی سے ملاقات کرائی جائے۔ کیس کی سماعت ملتوی کردی گئی۔

Tabool ads will show in this div