پاکستان ریلوے کے پاس تنخواہوں کے لیے رقم نہ ہونے کا انکشاف

سیلاب کے باعث پاکستان ریلوے کو 7 ارب روپے کا نقصان

سیلاب کے باعث ریل گاڑیاں نہ چلنے سے پاکستان ریلوے کو 7 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے اور ملازمین کوتنخواہوں کی ادائیگی کے لیے بھی پیسے نہیں رہے۔

ریلوے منسٹری کے دفتر میں قومی اسمبلی کی سب کمیٹی برائے ریلوے کا اجلاس ہوا، جس میں بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری ریلوے بورڈ مظہرعلی شاہ نے بتایا کہ ریلوے کو حالیہ سیلاب کے باعث شدید نقصان ہوا ہے، نقصانات کا اب تک کا تخمینہ جو سامنے آیا ہے وہ 5 سے 7 ارب روپے سے زائد بنتا ہے۔

سیکرٹری ریلوے نے کہا کہ ریلوے لائنز کو دیکھتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ ٹرینیں سمندر میں چل رہی ہیں، ریلوے کی سروسز بند ہونے کے باعث شدید مالی نقصان کا سامنا ہے، یہاں تک کہ ملازمین کو تنخواہ بھی نہیں دے سکتے۔

کنوینئر کمیٹی حامد حمید نے سوال کیا کہ اگر مستقبل میں بھی کوئی آفت آتی ہے تو ریلوے کی کیا حکمت عملی ہوگی، اگر حکومت مدد نہیں کرتی تو ادارے کے پاس کیا راستہ ہے، کیا ریلوے حکام کسی بین الاقوامی مالیاتی ادارے یا کسی ملک سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

ریلوے حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ ریلوے کی زمین کو لیز پر دینے کی پابندی عائد کی گئی، پشاور ڈویژن میں زمین پر قبضے کے نجی اور سرکاری اداروں کو ایک ہفتہ کا وقت دیا ہے کہ معاملے کو ریلوے انتظامیہ کے ساتھ بیٹھ کر نمٹایا جائے۔

کنوینئر کمیٹی حامد حمید نے کہا کہ اگر ریلوے حکام کہیں تو قبضہ کے مقدمات پر وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ سے بات کی جا سکتی ہے، تجاوزات پر ریلوے کے لیگل ونگ سے بھی مشاورت کریں گے۔

Tabool ads will show in this div