وزیرستان اور سوات میں امن وامان کے معاملات تشویشناک ہیں،امیرمقام

امن کے حوالے سےسب کی ترجیح ایک ہی ہونی چاہئیے

وزیراعظم کے معاون خصوصی امیر مقام خان نے کہا ہے کہ وزیرستان اور سوات میں امن وامان کے معاملات تشویشناک ہیں اور سیکورٹی معاملات پر مقامی لوگوں کو فکر اور تشویش ہے۔

سماء کے نمائندہ خصوصی عاصم نصیر کو انٹرویو دیتے ہوئے امیرمقام نے کہا کہ بلین ٹری سے توشہ خانہ اور فارن فنڈنگ سےعدلیہ کی تضحیک ثابت ہوگئی ہے، ایک قانون نہ ہونے سے کوئی عمران خان کيخلاف کارروائی نہیں کررہا ہے، عمران خان کےخلاف عدلیہ اور دیگراداروں کو کارروائی کرنی چاہئیے ۔

معاون خصوصی نے کہا کہ عمران خان نے جو فتوے لگائے،اس سے پورے ملک کو نقصان پہنچایا، سب کو چور چور کہنے سے نواز،شہبازیا نون لیگ کا نہیں بلکہ پاکستان کا نقصان ہوا۔

امیر مقام کا کہنا تھا کہ ملک میں سب کے لیے ایک قانون ہونا چاہئیے،وزیراعظم کو توہین عدالت پر گھر بجھوا دیا گیا تاہم خاتون جج کی توہین کرنے پر سزا دینے کے بجائے عمران خان کوچھوڑ دیا گیا اور الٹا ان کی تعریف کی گئی۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت لینے سے مسلم ليگ (ن) کو نقصان ہوا اور مخلوط حکومت اور مہنگائی کی وجہ سے کام نہیں کر پارہے ہیں تاہم اگر پی ڈی ایم اتحاد مل کر عام انتخابات میں جائے تو فائدہ ہوگا۔

امیرمقام نے مزید کہا کہ ایک دوسرےکےمینڈیٹ پرالیکشن لڑنےسےنتائج حق میں آئیںگے۔

سیکورٹی معاملات پر امیر مقام نے کہا کہ وزیرستان اور سوات میں معاملات تشویشناک ہیں اور سیکورٹی معاملات پر مقامی لوگوں کو فکر اور تشویش ہے، امن کے حوالے سےسب کی ترجیح ایک ہی ہونی چاہئیے۔

AMEER MUQAAM

Tabool ads will show in this div