انجلینا جولی سیلاب متاثرین کیلئے پاکستان میں اور پاکستانی فنکار کینیڈا میں ناچ گانوں میں مصروف

لاکھوں پاکستانی اس وقت بے یارو مددگار انتہائی کسمپرسی کی حالت میں کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں اور ان کے پاس نہ...

پاکستان اس وقت گلوبل وارمنگ (موسمیاتی تبدیلی) کی شدید لپیٹ میں ہے جس کی وجہ سے پاکستان کا ایک بڑا حصہ سیلاب کی نذر ہوگیا ہے اور لاکھوں پاکستانی اس وقت بے یارو مددگار انتہائی کسمپرسی کی حالت میں کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں اور ان کے پاس نہ سرچھپانے کی جگہ ہے اور نہ ہی پیٹ بھرنے کے لیے دو وقت کا کھانا مل رہا ہے۔

سیلاب جیسی قدرتی آفت سے جو لوگ اس وقت سب سے زیادہ متاثرہیں وہ حاملہ خواتین اور بچے ہیں جن کے پاس اس صورتحال میں نہ تو کسی مناسب طبی امداد کی سہولت موجود ہے اور نہ ہی ان کی دیکھ بھال کیلئے طبی عملہ تعینات ہے۔

سیلاب اورطوفانی بارشوں نے جہاں لاکھوں لوگوں کے گھر اجاڑ دئیے ہیں وہیں کئی ایکڑ پر پھیلی فصلیں بھی تباہ ہوگئیں جس کے باعث پاکستان کو مستقبل میں خوراک کی کمی کا بھی سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

گلوبل وارمنگ کے باعث پاکستان اس وقت انتہائی نازک دور سے گزررہا ہےاورلاکھوں لوگوں کی زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔ماحولیاتی تبدیلیوں کے ماہرین نے بھی پاکستان کی موجودہ صورتحال پر دنیا بھر کو خبردار کردیا ہے۔

پاکستان اس وقت جس شدید مشکل دور سے گزر رہا ہے اس کا اندازہ پوری دنیا کو ہے۔ دنیا بھر کے کئی ممالک جہاں پاکستان کے ساتھ اظہارِیکجہتی کرتے ہوئے بھرپور مدد کیلئے آگے آرہے ہیں وہیں دنیا کی کئی معروف شخصیات بھی پاکستان کا دورہ کرکے سیلاب متاثرین کی مدد کرنے میں پیش پیش ہیں۔

حال ہی میں ہالی ووڈ کی ناموراداکارہ اور اقوام متحدہ کی خیرسگالی کی سفیرانجلینا جولی نے پاکستان کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور دنیا بھر سے پاکستان کے لیے ’’ڈومور‘‘ کا مطالبہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس وقت بہت بڑی قدرتی آفت کا شکار ہے اور پاکستان کی اس صورتحال پر دنیا کو جاگنا چاہئے۔

انجلینا جولی پہلی بار پاکستان نہیں آئی ہیں بلکہ وہ اس سے قبل بھی اقوام متحدہ کی سفیر کے طورپر2 بار پاکستان کا دورہ کرچکی ہیں۔

انجلینا جولی کےعلاوہ زمبابوے سے تعلق رکھنے والے معروف مذہبی اسکالر مفتی مینک بھی سیلاب متاثرین کی مدد کرنے پاکستان پہنچے اور متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔

ان کے علاوہ ترکی کے معروف اداکار جلال ال جو کہ ترک ڈرامے ارطغرل غازی میں کام کرنے کی وجہ سے پاکستان میں بے حد مقبول ہیں وہ بھی پاکستان اور پاکستانیوں کی محبت میں سیلاب زدگان کی مدد کرنے پاکستان پہنچے اور سیلاب متاثرین کے ساتھ گھل مل گئے۔

انہوں نے اپنے عمل سے یقین دلایا کہ ترکی ہر مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ ہے۔

اس کے علاوہ حال ہی میں اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری انتونیو گوتیرس نے بھی پاکستان کا دورہ کرکے احساس دلایا کہ پاکستان اس مشکل وقت میں اکیلا نہیں بلکہ پوری دنیا ہمارے ساتھ ہے۔

اس وقت جب پوری دنیا اس مشکل صورتحال میں ہمارے ساتھ کھڑی ہے اور دنیا بھر کی معزز شخصیات پاکستان کا دورہ کرکے سیلاب متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کررہی ہیں تو ہماری شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے فنکار ایک بےکار سے ایوارڈ شو کی تقریب میں شرکت کے لیے کینیڈا گئے ہوئے ہیں۔ اس ایونٹ میں یہ تمام اداکار نہ صرف ناچ گانا کرنے میں مصروف ہیں بلکہ بڑی ہی بے شرمی کے ساتھ اپنی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر پوسٹ کررہے ہیں۔

ان بے حس اور خودغرض اداکاروں کی حرکتیں دیکھ کر ایسا لگ ہی نہیں رہا کہ پاکستان اس وقت انتہائی خطرناک صورتحال سے دوچار ہے اور لاکھوں افراد بے سہارا اور بے یارو مددگار کسی معجزے کے انتظار میں ہیں۔

ہمارے فنکاروں نے سوشل میڈیا کو ہی سب کچھ سمجھ لیا ہے۔ملک میں کچھ بھی ہو، کسی واقعے کی مذمت کرنی ہو یا اپنی بات لوگوں تک پہنچانی ہو،بس سوشل میڈیا پر ایک اسٹوری لگا کریا چند سیکنڈ کی ویڈیو بنا کرپوسٹ کردیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہمارا کام ختم ہوگیا۔

پاکستان کی صورتحال نے جہاں انجلینا جولی، مفتی مینک، ترک اداکار جلال ال اور انتونیو گوتیرس کو چین سے بیٹھنے نہیں دیا اور وہ پاکستان کا دورہ کیے بغیر نہ رہ سکے وہیں پاکستانی فنکار اپنے ہی ملک میں سیلاب متاثرین کی کہیں مدد کرتے ہوئے نظر نہیں آئے۔

سوائے گلوکارہ و اداکارہ حدیقہ کیانی کے کوئی پاکستانی فنکار بذات خود سیلاب زدہ علاقوں میں نہیں گیا بلکہ پاکستانی اداکار تواس وقت کینیڈا میں ناچ گانا کررہے ہیں۔

فنکاروں کی ناچ گانے کی ان ویڈیوز سے پاکستان کی ساکھ کو بین الاقوامی سطح پرانتہائی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے کیونکہ ایک طرف تو پاکستان سیلاب سے مشکلات کا شکار ہے اور ہمارے وزیراعظم دنیا بھرسے سیلاب متاثرین کی مدد کی اپیل کررہے ہیں وہیں دوسری جانب ہمارے فنکار سیلاب متاثرین کی مدد کرنے کے بجائے کینیڈا میں ایوارڈ شوز کی تیاریوں میں اس طرح مصروف ہیں جیسے یہ تباہی پاکستان میں نہیں بلکہ کسی اور ملک میں آئی ہو۔

پاکستان کے اس مشکل وقت میں جہاں ایوارڈ شو انتظامیہ کو تقریب کو منسوخ کردینا چاہیے تھا وہیں ہمارے فنکاروں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس تقریب کا بائیکاٹ کرنا چاہیے تھا کیونکہ یہ ایوارڈ شوز تو صورتحال بہتر ہونے کے بعد بھی منعقد ہوسکتے ہیں لیکن یہ وقت اپنوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے انہیں احساس دلانے کا ہے کہ وہ اکیلے نہیں ہیں بلکہ فنکاروں سمیت ملک کی تمام معزز شخصیات سیلاب متاثرین کے ساتھ ہیں۔

FLOOD 2022

Pakistan flood 2022

Tabool ads will show in this div