سپریم کورٹ کے بعد ہائیکورٹ کابھی پی ٹی آئی کو پارلیمنٹ واپسی کا مشورہ

پی ٹی آئی ارکان کوپارلیمنٹ جاکرحلقےکےعوامی مسائل پربات کرنی چاہیے، چیف جسٹس

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ پی ٹی آئی کے ارکان تکنیکی طور پر نہیں باقاعدہ ممبر اسمبلی ہیں، انہیں پارلیمنٹ جاکر حلقے کےعوامی مسائل پر بات کرنی چاہیے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری اور دیگر کو ہراساں کیے جانے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پی ٹی آئی کے وکیل فیصل چوہدری سے استفسار کیا کہ اسپیکر صاحب نے اس معاملے پر کیا رپورٹ دی ہے، اسپیکر نے علی وزیر کا کیا کیا ہے۔

چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے وکیل فیصل چوہدری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تو آپ سب پارلیمنٹ کے ممبر ہیں، کل تو سپریم کورٹ نے بھی کہہ دیا ہے۔

وکیل فیصل چوہدری نے جواب دیا کہ جی سرتکنیکی طور پر ابھی مستعفی ارکان رکن ہیں۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ تکنیکی طور پر نہیں باقاعدہ ممبر اسمبلی ہیں، پی ٹی آئی ارکان کو پارلیمنٹ جاکر حلقے کے عوامی مسائل پر بات کرنا چاہیے، جب تک ڈی نوٹیفائی نہ ہو جائیں یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔

عدالت نےارکان اسمبلی کے خلاف درج مقدمات کا ریکارڈ طلب کر لیا، اور حکم دیا کہ سیکرٹری داخلہ تین ہفتوں میں ریکارڈ عدالت میں پیش کریں، اگر ریکارڈ پیش نہ ہوا تو سیکرٹری داخلہ خود پیش ہوں۔

سپریم کورٹ کا پی ٹی آئی کا مشورہ

گزشتہ روز چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ایک کیس کی سماعت کے دوران سابق حکمران جماعت کو اسمبلی میں واپسی کا مشورہ دیتے ہوئے ریمارکس دیئے تھے کہ عوام نے ارکان کو 5 سال کیلئےمنتخب کیا ہے، وہ پارلیمنٹ میں اپنا کردار ادا کریں۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا پارلیمان میں کردار ادا کرنا ہی ارکان کا اصل فریضہ ہے، سیلاب سے تباہی اور ملک کی معاشی حالت بھی دیکھیں ، پی ٹی آئی کو اندازہ ہے کہ 123 نشستوں پر ضمنی انتخابات کے کیا اخراجات ہوں گے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ریاستی معاملات میں برداشت اور وضع داری سے چلنا پڑتا ہے، جلد بازی نہ کریں ، سوچنے کا ایک اور موقع دے رہے ہیں، پارٹی سے ہدایات لے لیں۔

PTI

Islamabad High Court (IHC)

Tabool ads will show in this div