سیلاب متاثرین کیمپوں میں 9 ہزار حاملہ خواتین، 3 ہزار سے زائد بچوں کی پیدائش

گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں 16 خواتین نے بچوں کو جنم دیا، رپورٹ

سندھ میں سیلاب متاثرین کیمپوں میں ساڑھے 9 ہزار حاملہ خواتین موجود ہیں، اب تک 3 ہزار سے زائد بچوں کی پیدائش ہوچکی ہے جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 16 خواتین نے بچوں کو جنم دیا ہے۔ وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کا کہنا ہے کہ حاملہ خواتین سے متعلق درست اعداد و شمار اب بھی نہیں ہیں۔

محکمہ صحت سندھ کے مطابق سندھ میں ساڑھے 9 ہزار خواتین کیمپوں میں مقیم ہیں، جن میں سے 16 خواتین نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بچوں کو جنم دیا ہے جبکہ 20 ستمبر کو 19 اور 18 ستمبر کو 29 بچوں کی پیدائش ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2 ہزار 691 خواتین حمل کے آخری سہ ماہی میں ہیں، 3 ہزار 703 خواتین دوسری اور ایک ہزار 634 خواتین پہلی سہ ماہی میں ہیں۔ محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق 8 ہزار 257 خواتین کو قبل از پیدائش کی دیکھ بھال کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں، 8 ہزار 100 حاملہ خواتین کو ٹیٹنس ڈپتھیریا اور ٹیٹنس ٹاکسائیڈ انجکشن دیئے گئے ہیں، 8 ہزار 965 حاملہ خواتین کو سپلیمینٹس دیئے گئے ہیں۔

محکمہ صحت کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 21 ستمبر تک 3 ہزار 671 خواتین نے سیلاب متاثرہ علاقوں میں بچوں کو جنم دیا ہے، ایک بچہ پیدائش کے بعد birth asphyxia کی وجہ سے انتقال کرگیا ہے۔ ڈاکٹرز کے مطابق پیدائش کے وقت بعض وجوہات کی بناء پر بچے سانس لینے میں دشواری کی وجہ سے انتقال کرجاتے ہیں۔

جمعرات کو جامعہ کراچی میں صحافیوں سے گفتگو میں وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو اس بات کا اعتراف کرچکی ہیں کہ حاملہ خواتین سے متعلق درست اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔

اس حوالے سے زچہ و بچہ کی ماہرین کا کہنا ہے کہ سب سے بڑا مسئلہ حاملہ خواتین کی دیکھ بھال اور محفوظ زچگی ہے کیونکہ یہ ایک نہیں بلکہ دو زندگیوں کا معاملہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جو اعداد و شمار حاملہ خواتین سے متعلق بتائے جارہے ہیں حاملہ خواتین کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوگی۔

عباسی شہید اسپتال میں گائنی ڈپارٹمنٹ کی سربراہ ڈاکٹر روبینہ طاہر نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ سیلاب کے بعد اس وقت ایک اور ڈیزاسٹر بیماریوں کی صورت میں سروں پر موجود ہے، ایسے میں حاملہ خواتین کی ایک بڑی تعداد کیمپوں میں رہائش پذیر ہے، جنہیں قبل از پیدائش اور بعد از پیدائش دیکھ بھال، اچھی ڈائیٹ اور ادویات کی ضرورت ہوتی ہے لیکن جب آفت سر پر موجود ہو لوگوں کے پاس کھانے کو کچھ نہ ہو تو اچھی غذا کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان علاقوں میں تربیت یافتہ مڈوائفس کو بھیجا جائے گو کہ کیمپوں میں زچگی کیلئے کوئی آئیڈیل صورتحال تو نہیں ہوگی لیکن پھر بھی جتنا ممکن ہوسکے، ان کی اچھی دیکھ بھال کی جاسکے۔

ڈاکٹر روبینہ کا کہنا ہے کہ زچگی کے دوران پیچیدگیاں اور نارمل ڈیلیوری بھی بعض اوقات پیچیدہ ہوسکتی ہے، پھر بچے کی پیدائش کے بعد نومولود کی اچھی دیکھ بھال ضروری ہے۔

Tabool ads will show in this div