اسلامی نظریاتی کونسل کا ٹرانس جینڈرایکٹ پراعتماد میں لینے کا مطالبہ

جنس کےاظہارسےفساد کےدروازےکھلیں گے،قبلہ ایاز
<p>فائل فوٹو</p>

فائل فوٹو

چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل قبلہ ایاز نے ٹرانس جینڈر ایکٹ میں ترمیم سے متعلق اعتماد میں لینے کا مطالبہ کردیا۔

کراچی میں تقریب سے خطاب کے دوران قبلہ ایاز نے کہا کہ جنس کے اظہار سے فساد کے دروازے کھلیں گے، اس معاملے میں اسلامی نظریاتی کونسل اپنی سفارشات پیش کرے گی۔

قبلہ ایاز نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل سفارشات پیش کرے گی، جنس کی شناخت نہیں اظہار کا مسئلہ ہے، اس حوالے سے طبی اورفنی حوالے سے سفارشات تیار کریں گے۔

قبلہ ایاز نے کہا کہ نظریاتی کونسل نے خواجہ سراؤں کے حقوق کیلئے جامع موقف اپنایا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کی پارلیمنٹ سے ٹرانس جینڈر ایکٹ 2018 میں منظور کیا گیا تھا جس کے غلط استعمال کو روکنے کیلئے جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد احمد 2021 میں ترامیم لیکر آئے تھے جنہیں حال ہی میں پارلیمنٹ میں مسترد کردیا گیا۔

اب جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے اس ایکٹ کے خلاف وفاقی شرعی عدالت میں پٹیشن دائر کی ہے جس میں اس کی متعدد شقوں کو چیلنج کیا گیا ہے۔

ٹرانسجینڈ ایکٹ کے تحت کسی بھی شخص کو اس بات کا اختیار دیا گیا ہے کہ وہ نادرا کے پاس جاکر اپنی جنس کو تبدیل کرانے کی درخواست دے سکتا ہے جس کیلئے مڈیکل بورڈ کی بھی شرط نہیں رکھی گئی۔

مذہبی جماعتیں خواجہ سراؤں کے تحفظ کے نام پر منظور ہونے والے اس ایکٹ کے غلط استعمال کے خدشات کا اظہار کررہی ہیں۔

مذہبی جماعتوں کا کہنا ہے کہ قانون میں کسی بھی شخص کو جنس میں تبدیلی کا اختیار دینے کے بجائے واضح طور پر صرف خواجہ سراؤں کو جنس میں تبدیلی کا اختیار دینا چاہئے۔

جس کیلئے اس ایکٹ میں لکھے گئے ANY PERSON کے الفاظ کے بجائے واضح الفاظ استعمال ہونے چاہئیں تاکہ واضح ہو کہ اس قانون سے صرف خواجہ سرا ہی اپنی جنس مرد یا عورت میں تبدیل کراسکیں۔

مذہبی حلقوں کا کہنا ہے کہ any person کا لفظ لکھنے سے کسی بھی مرد کو اپنی جنس عورت میں تبدیل کرانے جبکہ عورت کو اپنی جنس مرد میں تبدیل کرانے کا اختیار حاصل ہوجائے گا۔

مذہبی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس قانون کے ذریعے ہم جنس پرستی کو فروغ ملے گا اور کوئی بھی مرد خود کو عورت قرار دے کر کسی بھی مرد سے شادی کر سکے گا یہی صورت عورتوں میں بھی پیدا ہو سکتی ہے جس سے معاشرتی بگاڑ کا ایک ایسا دروازہ کھل جائے گا جو معاشرے کی بنیادیں ہلا کر رکھ دے گا۔

ذرائع کا یہ کہنا ہے کہ نادرا کے ریکارڈ کے مطابق ٹرانسجینڈر ایکٹ کی منطوری کے بعد صرف تین سال کے قلیل عرصے میں 29000 درخواستیں موصول ہوئیں جن میں 16530 مردوں نے اپنی جنس عورت میں تبدیل کروائی اور 15154 عورتوں نے اپنی جنس مرد میں تبدیل کروائی اور جن کےلیے قانون بنایا گیا تھا ان کی کل 30 درخواستیں موصول ہوئیں، ان میں 21 خواجہ سراؤں نے مرد کے طور پر اور 9 نے عورت کے طور پر حیثیت اختیار کی۔

QIBLA AYAZ

transgender act

Tabool ads will show in this div