فیفا ورلڈ کپ کے لئے پاکستانی محنت کشوں کو قطر جانے میں مشکلات کا سامنا

فیفا ورلڈ کپ نومبر میں ہے جبکہ میڈیکل کا وقت جنوری میں دیا جارہا ہے

فیفا ورلڈ کپ کے لئے پاکستانی محنت کشوں کو قطر جانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

فیفا ورلڈ کپ نومبر میں قطر میں منعقد ہوگا اس عالمی ایونٹ کی تیاریوں اور انتظامات کے لئے ترقی پزیر ممالک سے محنت کش قطر پہنچ رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق مختلف ممالک کو دئے گئے کوٹہ کے تحت پاکستان سے بھی اس ایونٹ کے لئے 10ہزار سے زائد افراد قطر جارہے ہیں تاہم اس سے قبل قطر جانے والے پاکستانیوں کے لئے میڈیکل ٹیسٹ کا عمل تاخیر سے دوچار ہوگیا ہے جس کی وجہ سے خدشہ ہے کہ پاکستانی محنت کشوں کی ایک بڑی تعداد روزگار کے اس موقع سے محروم رہ جائیں گے۔

قطر جانے کے خواہش مند افراد کا کہنا ہے کہ میڈیکل ٹیسٹ نجی کمپنی “جیریز” ویزہ نمبر جاری ہونے کے باوجود میڈیکل کے لئے اپائمنٹ نہیں دے رہی۔

پاکستانی محنت کشوں کا کہنا ہے کہ فیفا ورلڈ کپ نومبر میں ہے جبکہ جیریز میڈیکل کا وقت جنوری کا دے رہا ہے۔

پاکستان اوورسیز ایمپلائمنٹ پرموٹرز ایسوسی ایشن کے نائب صدر محمد عدنان پراچہ نے بھی اس سلسلے میں حکومت سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی حکومت فوری طور پر قطر حکومت سے بات کر کے پاکستانیوں کے قطر کے لئے میڈیکل ٹیسٹ کے عمل کو تیز کرائے۔

عدنان پراچہ کا کہنا ہے کہ فیفا ورلڈ کپ کے لئے 10 ہزار سے زائد پاکستانی قطر جانے کے منتظر ہیں۔ پاکستانیوں کو بروقت قطر نہ پہنچنے کی وجہ سے ملازمتوں کوٹہ نیپال بھارت اور بنگلہ دیش منتقل ہونا شروع ہوگیا ہے۔

اوور سیز ایمپلائنٹ پروموٹرز کا کہنا ہے کہ پاکستان قطر کے منظورہ شدہ دو سینٹر کراچی اور اسلام آباد میں ہیں۔ قطر ویزے کے لئے یومیہ 300 میڈیکل ہورہے ہیں جبکہ یومیہ 700 سے 800 افراد کے میڈیکل کی ضرورت ہے۔ارجنٹ میڈیکل کی فیس 4850 سے بڑھا کر 7450 روپے کردی لیکن اس کے باجود ارجنٹ فیس وصول کرنے کے باوجود میڈیکل کا وقت نہیں دیا جارہا۔

Tabool ads will show in this div