عالمی بینک کا پاکستان میں سیلاب سے غذائی عدم تحفظ بڑھنے کے خدشے کا اظہار

متاثرہ علاقوں میں 73 فیصد گھرانوں کے پاس خوراک خریدنے کے پیسے نہیں

عالمی بینک نے سیلاب کی وجہ سے غذائی عدم تحفظ بڑھنے کے خدشے کا اظہار کردیا۔

عالمی بینک کی جانب سے بتایا گیا کہ متاثرہ علاقوں میں 73 فیصد گھرانوں کے پاس خوراک خریدنے کے پیسے نہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان میں گزشتہ 3 ماہ میں معمول سے67 فیصد زیادہ بارشیں ہوئیں اور متاثرہ علاقوں میں 19 لاکھ افراد کو غذائی تحفظ اور زرعی امداد کی ضرورت ہے۔

عالمی بینک نے خدشہ ظاہر کیا کہ متاثرہ علاقوں میں 5 لاکھ 10ہزار سے زائد لوگ غذائی عدم تحفظ کے بالکل قریب پہنچ چکے ہیں اور سیلاب سے پاکستان کے 81 اضلاع میں 3 کروڑ 30 لاکھ آبادی متاثر ہوئی ہے۔

یہ بھی بتایا گیا کہ معمول سے زیادہ بارشوں کی وجہ سے زرعی اراضی، لائیواسٹاک، جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

سندھ میں 12 لاکھ ہیکٹر زرعی اراضی کو نقصان نے لائیواسٹاک اور زرعی پیداوار پر منفی اثر ڈالا۔ سندھ میں چاول کی 80 فیصد، کپاس کی 88 فیصد، گنے کی66 فیصد پیداوار متاثر ہوئی۔

اس کےعلاوہ سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سیلاب اورمہنگائی کی وجہ سے غذائی عدم تحفظ بڑھا ہے۔

world bank

FLOOD 2022

Pakistan flood 2022

Tabool ads will show in this div