عمران خان کی معافی مانگنے پر رضامندی سے متعلق حسن نثار کا تبصرہ

جنہوں نے ملک ٹوٹنے سے کوئی سبق نہیں سیکھا ان کو ہوش کرنا چاہیے، حسن نثار

عمران خان کی جانب سے توہین عدالت کیس میں خاتون جج نے معافی مانگنے پر رضامندی کے اظہار کو تجزیہ کاروں نے سراہا ہے۔

سماء کی خصوصی نشریات میں گفتگو کے دوران معروف تجزیہ کار حسن نثار نے کہا کہ معافی سے احتراز بری بات ہے، اگر کوئی شخص اپنے کسی بھی قدم کو ری وزٹ ( نظر ثانی ) کرتا ہے تو اس کو بھی اسی وقار کے ساتھ دیکھا جانا چاہیے۔

حسن نثار نے کہا کہ پاکستان کے لئے یہ انتہائی نازک وقت ہے، ایک آدھ غلط اسٹروک کھیلا تو ہمیں ہمارے جرائم کی بھیانک سزا ملے گی۔

تجزیہ کار نے کہا کہ جنہوں نے ملک ٹوٹنے سے کوئی سبق نہیں سیکھا ان کو ہوش کرنا چاہیے۔ اس لئے میرا خیال ہے جو ہوا اچھا ہوا۔

معافی مانگنا عمران خان کی آئینی ٹیم کا مشورہ نہیں

اس موقع پر تجزیہ کار نعیم حنیف نے کہا کہ معافی مانگنا عمران خان کی آئینی ٹیم کا مشورہ نہیں، عمران خان نے واٹس ایپ میسیج پر دیئے گئے مشورے پر عمل کیا اور وہ ایک قدم آگے گئے ہیں، اس سے میری نظر میں عمران خان کا قد مزید اونچا ہوا ہے۔

نعیم حنیف نے کہا کہ عمران خان کو واٹس ایپ میسیج گرد و نواح سے آیا ہے، انہیں سمجھایا گیا ہے کہ اس طرح کے معاملات میں الجھنے کے بجائے آپ حقیقی آزادی کی جنگ پر توجہ مرکوز کریں۔ ان کیسز سے خود کو نکالیں۔

عدالت نے عمران خان کو بہت گنجائش دی

اینکر پرسن ندیم ملک کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ ملک میں جمہوریت کے بہت بڑے حامی ہیں، انہوں نے عمران خان کو بہت گنجائش دی ہے۔

ندیم ملک کا کہنا تھا کہ برا لیڈر چھوٹی سی بات پر نااہل نہیں ہونا چاہیے، عمران خان جو کرنا چاہتے ہیں وہ زیادہ خطرناک ہے، جو استعارے وہ استعمال کررہے ہیں وہ اچھے نہیں۔

PTI

IMRAN KHAN

CONTEMPT OF COURT

hasan nisar

Tabool ads will show in this div