توہین عدالت کیس؛ عمران خان معافی مانگنے پر رضامند

توہین عدالت کیس کی سماعت 3 اکتوبر تک ملتوی

اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی 3 اکتوبر تک موخر کردی۔

جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہرمن اللہ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجربینچ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کیخلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کررہا ہے۔

عدالت نے سابق وزیراعظم کو فرد جرم عائد کرنے کیلئے طلب کیا تھا۔

توہین عدالت کیس شروع ہوئی تو فاضل بینچ نے عمران خان کو روسٹرم پر بلا لیا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ آج ہم صرف فرد جرم پڑھ کر سنائیں گے۔ جس پر عمران خان کے وکیل نے استدعا کی کہ ان کے موکل خود بات کرنا چاہتے ہیں، استدعا ہے پہلے سن لیں۔

معافی مانگنے پر رضامندی

عدالت کی اجازت پر عمران خان نے کہا کہ میری 26 سال کی جدوجہد قانون کی حکمرانی کے لئے ہی ہے۔ گزشتہ سماعت پر اندازہ ہوا عدالت سمجھتی ہے میں نے لائن کراس کی، میری کبھی بھی نیت توہین عدالت کی نہیں تھی۔

عمران خان نے کہا کہ خاتون جج کے پاس جا کر اپنے الفاظ کی وضاحت کر سکتا ہوں، میں خاتون جج کے پاس جا کر معافی بھی مانگ سکتا ہوں۔

بیان حلفی جمع کرائیں

عمران خان کی بات پر عدالت عالیہ نے ریمارکس دیئے کہ ہم کبھی بھی توہین عدالت کی کارروائی نہیں کرنا چاہتے۔ آپ نے جو بیان ابھی دیا اس کو ہم سراہتے ہیں، اس کا بیان حلفی جمع کرائیں، بات بیان حلفی کی صورت میں آئے گی تو ہم زیرغور لائیں گے۔

سیکیورٹی انتہائی سخت

عمران خان کی ہائی کورٹ آمد کے موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے۔ عدالت عالیہ کے اندر اور باہر 710 پولیس افسران و اہلکار تعینات ہیں.

عدالت میں صرف خصوصی پاس رکھنے والے افراد ہی عدالت میں داخل ہوسکے۔

کیس کا پس منظر

عمران خان نے 20 اگست کو شہباز گل کے ریمانڈ سے متعلق فیصلے پر ایک احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل جج زیبا چوہدری اور پولیس افسران کے خلاف قانونی کارروائی کی بات کی تھی۔

عمران خان کے خلاف اسلام آباد کے علاقے صدر کے مجسٹریٹ علی جاوید کی مدعیت میں تھانہ مارگلہ میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

31 اگست کو چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب، جسٹس طارق محمود جہانگیری اور جسٹس بابر ستار پر مشتمل 5 رکنی بینچ نے عمران خان کو 8 ستمبر تک دوبارہ جواب جمع کرانے کا حکم دیا تھا۔

اپنے جواب میں عمران خان نے کہا کہ اپنے الفاظ کو غیر ارادی قرار دیتے ہوئے معافی مانگنے کے بجائے اظہار افسوس کیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایڈیشنل جج زیبا چوہدری سے متعلق دیے گئے بیان پر عمران خان کے خلاف توہین عدالت پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے سماعت 22 ستمبر تک ملتوی کردی تھی۔

PTI

IMRAN KHAN

Tabool ads will show in this div