3 سال کے نیب کے میگا کرپشن کیسز کی تفصیلات سامنے آگئیں

نیب کسی بھی ہائی پروفائل شخصیت کو سزا دلوانے میں کامیاب نہ ہوسکا

سماء انوسٹی گیشن یونٹ 3 سال کے دوران بنائے گئے نیب کے میگا کرپشن کیسز کی تفصیلات سامنے لے آیا۔

سماء 3 سال کے نیب کے میگا کرپشن کیسز کی تفصیلات سامنے لے آیا ہے، جس کے مطابق نئے قانون کےتحت 100 ہائی پروفائل کیسز کی تحقیقات اب نیب نہیں بلکہ متعلقہ محکمے کریں گے۔

رپورٹ کے مطابق ہائی پروفائل شخصیات پر 700 ارب روپے کی کرپشن کےالزامات تھے، نیب پہلے ہی ان کیسز پر 2 ارب روپے خرچ کرچکا ہے، تاہم نیب کسی بھی ہائی پروفائل شخصیت کو سزا دلوانے میں کامیاب نہ ہوسکا۔

تحقیقات رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ نیب کو ان ہائی پروفائل کیسز میں کوئی رقم وصول نہ ہوسکی، جب کہ تین برس میں نیب کو 16 ارب روپے دیے جا چکے ہیں، ایسیٹ ریکوری یونٹ نے بھی 12 کروڑ روپے خرچ کئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2017 سے اب تک 250 سے زائد اراکین پارلیمان کےخلاف تحقیقات ہوئیں، ہائی پروفائل کیسز پر فیصلے کے لیے خصوصی سیل قائم کیا گیا، 40 بڑے کیسز عدالتوں نے پہلے ہی واپس کردیے تھے، 80 فیصد ملزمان نے ضمانت حاصل کی، اور 5 فیصد بری ہوئے۔

نئے قانون کے تحت 15 فیصد بڑی مچھلیوں کے خلاف انکوائری بند ہوگئی ہے، وزیراعظم شہبازشریف، حمزہ شہباز اور اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کے کیسز واپس کردیئے گئے ہیں۔

سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، مہتاب عباسی اور سلیم مانڈوی والا کے کیس بھی واپس بھیج دیئے گئے، جب کہ نئے قانون کے تحت نیب کے اپنے افسران کے خلاف کیسز واپس ہوگئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق صدر آصف زرداری اور ان کی ہمشیزہ فریال تالپور کے کیسز پر فیصلہ آئندہ ماہ متوقع ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق 70 فیصد سے زائد کیس ایف بی آر اورایف آئی اے کو بھیجنے پرغور کیا جارہا ہے، جب کہ کیسز صوبائی محکمہ اینٹی کرپشن کو بھی بھیجے جائیں گے۔

NAB

Tabool ads will show in this div