گن شپ ہیلی کاپٹر کی اسکول پر اندھادھند شیلنگ سے 11 بچے ہلاک

یونیسیف کی جانب سے واقعے کی مذمت

میانمار میں گن شپ ہیلی کاپٹر کی اسکول پر اندھادھند شیلنگ کے نتیجے میں 11 بچے ہلاک ہوگئے۔

اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسیف نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا بچے فضائی حملے میں “اندھا دھند فائرنگ” کے نتیجے میں مارے گئے، یونیسیف نے لاپتا بچوں کو فوری سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

یونیسیف کے مطابق شمالی میانمار کے ایک اسکول میں گزشتہ جمعہ کو میانمار کی فوج کے گن شپ ہیلی کاپٹر نے شیلنگ کی جس کے نتیجے میں 11 بچے ہلاک اور 15 لاپتا ہوگئے۔

یونیسیف نے اپنے بیان میں کہا وہ مرنے والے بچوں کے والدین اور خاندانوں سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ اسکول محفوظ ہونے چاہئیں اور بچوں پر کبھی حملہ نہیں ہونا چاہیے۔

بی بی سی برمی سروس نے واقعے میں 6 بچوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جن میں 7 اور 14 سال کی عمر کے دو لڑکے اور 7 سے 11 سال عمر کی تین لڑکیاں شامل ہیں۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ بیشتر لاشوں کو فوجی اہلکار اپنے ہمراہ لے گئے جبکہ فوج کے ہاتھوں مزید 6 دیہاتیوں کو بھی ہلاک کیا گیا جن میں پانچ مرد اور ایک خاتون شامل ہیں۔

روئٹرز کے مطابق سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تصاویر میں اسکول کی عمارت میں گولیوں کے خول اور خون دیکھا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب میانمار کی فوجی حکومت کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس حملے میں باغیوں کو نشانہ بنایا جنہوں نے اسکول میں پناہ لے رکھی تھی۔

واضح رہے کہ میانمار کی فوج نے فروری 2021 میں آنگ سان سوچی کی جمہوری طور پر منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کرلیا تھا۔

برما سیاسی قیدیوں کی مدد کرنے والی ایک تنظیم کے مطابق فوجی بغاوت کے بعد سے اب تک سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں 1500 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

MYANMAR SCHOOL ATTACK

Tabool ads will show in this div