توشہ خانہ کیس؛ عمران خان کی نااہلی کے ریفرنس پر فیصلہ محفوظ

تحائف خریدنے کیلئے رقم کہاں سے آئی اس کا الیکشن کمیشن سے کوئی تعلق نہیں، وکیل عمران خان

الیکشن کمیشن نے توشہ خانہ تحائف ظاہر نہ کرنے پر عمران خان کی نااہلی کے ریفرنس پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ عمران خان نے تحائف وصول اور فروخت کرنا تسلیم کیا مگر تاریخ اور قیمت نہیں بتائی۔ عمران خان کے وکیل نے کہا، الیکشن کمیشن کو بتانا ضروری نہیں کہ توشہ خانہ کے تحائف خریدنے کیلئے رقم کہاں سے آئی؟

چیف الیکشن کمشنر کی زیر صدارت اسپیکر ریفرنس کی سماعت ہوئی۔ مسلم لیگ ن کے وکیل خالد اسحاق نے کہا کہ عمران خان نے تحائف گوشواروں میں ظاہر نہیں کرنے کا اعتراف کیا۔

وکیل خالد اسحاق نے کہا کہ عمران خان نے دعویٰ بھی کیا کہ ایف بی آر میں فروخت شدہ تحائف کی آمدن ظاہر کردی تھی، لیکن دونوں گوشوارے الگ الگ ہیں۔ لندن فلیٹ کی رسیدیں دینے والا بیچے گئے تحائف کی رسیدیں کیوں نہیں دے رہا۔

خالد اسحاق نے مؤقف پیش کیا کہ ننکانہ صاحب کے ضمنی انتخاب میں تحائف کا اعتراض اٹھا تو عمران خان نے ریٹرننگ افسر سے کہا کہ یہ فیصلہ کرنے کا مجاز فورم الیکشن کمیشن ہے، اب یہاں الیکشن کمیشن کا اختیار ہی نہیں مان رہے۔ جب کہ اثاثے ظاہر نہ کرنے پر الیکشن کمیشن ہی کسی ممبر کو نااہل کرسکتا ہے۔

الیکشن کمیشن نے استفسار کیا کہ ممکن ہے اثاثے ظاہر کرنے میں غلطی ہوگئی ہو؟ تب تو نااہلی نہیں بنتی۔

خالد اسحاق نے کہا کہ اگر غلطی ہوئی تو تسلیم کی جائے۔ عمران خان بیان حلفی پر جھوٹ بولنے کے مرتکب ہوئے ہیں۔

عمران خان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آرٹیکل 62 ون ایف کے اطلاق کے لیے عدالت کا ڈیکلریشن لازمی ہے مگر اسپیکر کے پاس کوئی ڈیکلریشن نہیں تھا۔ وہ ریفرنس بھیجنے کے اہل ہی نہیں، تحائف خریدنے کیلئے رقم کہاں سے آئی اس کا الیکشن کمیشن سے کوئی تعلق نہیں۔

کمیشن ارکان نے ریمارکس دیئے کہ اگر کمیشن کچھ کرنہیں سکتا تو اسپیکر کے ریفرنس بھیجنے کی شق کیوں ڈالی گئی؟ جہاں شک ہو وہاں الیکشن کمیشن اسکروٹنی بھی کرتا ہے۔

دلائل مکمل ہونے پر الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

IMRAN KHAN

imran khan today

ELECTION COMMISION OF PAKISTAN (ECP)

Tabool ads will show in this div