پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اجلاس؛ 25 سے زائد ارکان غائب

اجلاس میں شریک پی ٹی آئی ارکان وزیر اعلیٰ پنجاب کے خلاف پھٹ پڑے

پی ٹی آئی پنجاب کی پارلیمانی پارٹی اجلاس سے 25 سے زائد ارکان غیر حاضر رہے۔

تحریک انصاف کو پنجاب میں مشکلات کا سامنا ہے، کیوں کہ ان کے اپنے ارکان ہی وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ سے خائف ہیں، اور پنجاب حکومت کے مستبقل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

گزشتہ روز پنجاب ہاؤس اسلام آباد میں چیئرمین عمران خان کی زیرصدارت پنجاب کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ہوا، اور اس 25 سے زائد ارکان نے شرکت ہی نہیں کی۔

سماء نے پی ٹی آئی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں ارکان کی جانب سے ہونے والی شکایات اور تحفظات کی اندرونی کہانی میں بھانڈا پھوڑدیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب میں پی ٹی آئی ارکان کی تعداد176 ہے، جب کہ پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں 150 ارکان ہی شریک ہوئے، جس پر چیرمین عمران خان نے شدید ناراضی کا اظہار کیا۔

ذرائع نے بتایا کہ ایک طرف ارکان کی غیر حاضری نے پنجاب حکومت کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے، اور دوسری طرف اجلاس میں شرکت کرنے والی پی ٹی آئی ارکان بھی وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ سے شدید ناراض اور غیر مطمئن ہیں۔

ارکان پنجاب اسمبلی اجلاس میں پرویزالہیٰ کے خلاف پھٹ پڑے، اور شکایات و تحفظات کا انبار لگادیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ارکان پنجاب میں لاوارث ہیں، جب کہ ق لیگ کے کونسلر سطح کے لوگ مشیر بنالئے گئے ہیں۔

ارکان نے عمران خان سے گلہ کرتے ہوئے سوال کیا کہ لگتا ہی نہیں کہ پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت ہے، سب خوار ہوگئے کس کے پاس جائیں۔

ذرائع کے مطابق عمران خان نے اعتراف کیا کہ پنجاب میں ق لیگ کی حکومت ہے، لیکن پی ٹی آئی کو اپنا وجود منوانا ہوگا۔

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ ہمیں مجبوراً حکومت ق لیگ کو دینا پڑی، ہم نے اسلم اقبال کو سینئر وزیر لگا دیا وہ معاملات ٹھیک کر لیں گے۔

PTI

IMRAN KHAN

PTI Punjab

Tabool ads will show in this div