سیلاب متاثرین کےکیمپوں میں لاکھوں بچے اور خواتين بيمار، مزید 6 افراد جاں بحق

متاثرہ افراد میں 80 فی صد کا تعلق سندھ اور بلوچستان سے ہے

سیلاب متاثرین کے کیمپوں میں پھیلی مختلف بيمارياں موت باٹنے لگی ہیں۔

سماء انویسٹی گیشن یونٹ کے مطابق اقوام متحدہ اور ديگر اداروں نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ ملک میں سيلاب سے متاثرہ علاقوں ميں چالیس لاکھ کے قریب بچے اور خواتين بيماريوں ميں مبتلا ہیں، انہیں فوری امداد نہ ملی تو ان کی زندگيوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

اعدادوشمار کے مطابق متاثرہ افراد میں 80 فی صد کا تعلق سندھ اور بلوچستان سے ہے، 24 لاکھ بیمار افراد کا تعلق سندھ جبکہ چار لاکھ کا بلوچستان سے ہے، سیلاب متاثرین میں سے 7 لاکھ سے زائد افراد ڈائریا ميں مبتلا ہیں، 8 لاکھ جلدی بیماریوں کے شکار ہوچکے، 6 لاکھے مليريا جب کہ 3 ہزار ڈينگی سے متاثر ہوئے ہیں۔

اعداد و شمار ميں يہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ تقریباً 7لاکھ خواتین اگلے 3 ماہ ميں ماں بننے والی ہیں جن میں سے 75 ہزار حاملہ خواتین رواں ماہ بچوں کو جنم دیں گی۔

سیلاب سے متاثرہ علاقوں اور کيمپوں ميں 50 ہزار کے قریب ڈاکٹرز، طبی عملہ اور رضاکار تعینات ہيں جو اب تک 28 لاکھ مریضوں کاچیک اپ کرچکے ہيں۔

24 گھنٹے میں 6 افراد بیماریوں سے جاں بحق

خیر پور اور ملحقہ علاقوں میں واقع مختلف کیمپوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 6 افراد بیماریوں کی بھینٹ چڑھ گئے۔ لقمہ اجل بننے ولاے تمام افراد خواتین اور بچے ہیں۔

فیض گنج اور نارا میں 2 بچے اور خاتون زندگی ہار گئے، ٹھری میرواہ میں گیسٹرو سے 3سالہ بچی انتقال کر گئی، کوٹ ڈیجی میں ملیریا نے 8 سالہ آصفہ اور 2 سالہ وکیلا شنبانی کو موت کے اندھیروں میں پہنچا دیا۔

FLOOD 2022

Tabool ads will show in this div