سیلابی پانی میں 7 فٹ لمبے مگر مچھ نکل آئے

گاؤں والوں میں خوف و ہراس

پاکستان کے صوبے سندھ میں آنے والے حالیہ سیلاب کے پانی میں 7 فٹ لمبے دو مگر مچھ نکل آئے۔

سیلاب آنے کے بعد کئی علاقوں میں خطرناک سانپ بھی نکلے ہیں اور کئی علاقوں میں سیلابی پانی میں مچھلیاں بھی آگئیں، کہیں مچھروں نے یلغار کردی مگر خوف اس وقت طاری ہوا جب نظر 7 فٹ لمبے دو مگر مچھوں پر پڑی۔

مقامی افراد کے مطابق انہوں نے تقریباً 7 فٹ لمبے دو مگر مچھوں کو سیلاب کے بعد جمع ہونے والے پانی میں دیکھا۔

نواب شاہ میں مگرمچھ دیکھ کر گاؤں یوسف ڈاہری کے سیلاب متاثرین میں خوف پھیل گیا۔ گاؤں والوں کی جانب سے انتظامیہ اور محکمہ وائلڈ لائف کو اطلاع دی گئی۔ جس کے بعد محکمہ وائلڈ لائف کی ٹیم نے موقع پر پہنچ کر مگر مچھ کو تحویل میں لے لیا۔

تاہم کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ مگرمچھ کون سے تھے؟

چلیں آپ کی معلومات کیلئے ہم آپ کو ان مگرمچھوں سے متعلق مختصر معلومات فراہم کرتے ہیں۔ نواب شاہ یا بے نظیرآباد سے پکڑے گئے یہ مگر مچھ مارش مگر مچھ کہلاتے ہیں۔

یہ کہاں رہنا پسند کرتے ہیں؟

مارش مگر مچھ کم گہرائی والے کھڑے ہوئے پانی اور پاس ہی موجود خشکی والے مسکن میں رہنا پسند کرتے ہیں، کیونکہ ان کو روزانہ ہر حال میں تقریباً 2گھنٹے دھوپ سے توانائی چاہیے، ورنہ بصورت دیگر ان میں جان باقی نہیں رہتی ہے۔

یہ متحرک حملہ آور نہیں ہوتے ہیں اور مردار جانور کھانا ان کی ترجیح ہوتی ہے۔

ان کا مسکن

ضلع شہید بینظرآباد کا علاقہ “دیھ اکرو II” وائلڈ مارش مگر مچھوں کے مسکن کے حوالے سے شہرت رکھتا ہے، جہاں پر رتیلے علاقوں میں کئی قدرتی جھیلوں میں مارش مگر مچھ موجود ہیں۔

ان میں سے مارش ،گر مچھ برساتی پانی کے قریبی علاقوں میں موجودگی کی وجہ سے زرعی زمین والےعلاقے کی طرف نکل آتے ہیں، اور یہ ہی وجہ تھی کہ بینظیر آباد میں موجود سیلابی پانی میں ان مگر مچھوں کو دیکھا گیا، جن کو سندھ وائلڈ لائف عملہ نے اپنی نگرانی میں ریسکیو کیا اور محفوظ مقام پر منتقل کیا۔

پانی کم ہوتے ہی ان مگر مچھوں کو حکام نے قدرتی مسکن “دیھ اکرو کی سینکچوری میں آزاد کردیا گیا۔

ضلع شہید بینظرآباد کے عملہ ارکین اسد علی مری، دارا منیر قاضی اور جملہ عملہ و علاقے کے مکین جنہوں نے مگر مچھوں کو ریسکیو کرانے میں کرادر ادا کیا، ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر بغیر تصدیق کے لوگوں کی جانب سے غلط ویڈیو اور تصاویر شیئر کی گئی اور یہ جانے بغیر انہیں نواب شاہ سے پکڑے گئے مگر مچھ بتایا گیا کہ اس نسل کے مگر مچھ تو پاکستان میں پائے ہی نہیں جاتے ہیں۔

ہم میں سے کتنے لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ اگر آپ کو اس بات کا اندازہ لگانا ہو یا تصدیق کرنی ہو کہ آیا جو تصویر آپ کو پاکستان کا مگرمچھ بتا کر دکھائی جا رہی ہے وہ درست بھی ہے یا نہیں؟ تو اس کیلئے وائلڈ لائف سے ضرور رابطہ کرکے تصدیق کرلیں۔

سما ڈیجیٹل کے سوال پر وائلڈ لائف افسر نعیم نے ہمیں بتایا کہ پاکستان میں موجود مگر مچھوں کا رنگ بھارت کے مگرمچھوں سے بہت مختلف ہوتا ہے۔

سماء ڈیجیٹل کی جانب سے جب ان کی پہچان سے متعلق مزید پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں موجود مگر مچھوں کا رنگ گہرا ہرا اور کالے شیڈ کا ہوتا ہے، جب کہ بھارت میں پائے جانے والے مگر مچھوں کا رنگ اس سے کہیں مختلف ہوتا ہے۔

سب سے زیادہ مگر مچھ کہاں پائے جاتے ہیں؟

مگرمچھ کا شمار خطرناک ترین جانوروں میں کیا جاتا ہے۔ انہیں ڈائنا سارز کا قریبی رشتہ بھی کہتے ہیں۔ منگھو پیر کے تالاب میں ڈیڑھ سو سے زائد مگرمچھ رہتے ہیں۔ یہ پاکستان میں کسی ایک جگہ مگر مھچوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

مگر مچھوں کا سائز

سما ڈیجیٹل نے وائلڈ لائف بہاول پور حکام کا مؤقف جاننا چاہا تو اسسٹنٹ ڈائریکٹر وائلڈ لائف بہاولپور محمد ابرار نے سما ڈیجیٹل کو بتایا کہ مگرمچھ 8 سے 12 فٹ لمبے ہوتے ہیں۔ تاہم چھوٹی جھیلوں میں چھوٹے سائز کے مگرمچھوں کو چھوڑا جاتا ہے۔

wildlife

nawabshah

crocodile

FLOOD 2022

Tabool ads will show in this div