قرض کے لیے آئی ایم ایف نے ناک سے لکیریں نکلوائیں، وزیر اعظم

ہم ایٹمی طاقت نہ ہوتے تو مسائل مزید گھمبیر ہوتے ،وزیراعظم

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ معاہدے کی بری طرح دھجیاں بکھیرنے پر آئی ایم ایف نے ہمیں آڑے ہاتھوں لیا اور ناک سے لکیریں نکلوائیں۔

اسلام آباد میں وکلا کنونشن سے خطاب کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت سنبھالی تو بے شمار مسائل کا سامنا تھا، ملک معاشی طور پر دیوالیہ ہونے کے قریب تھا، موجودہ حکومت نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، معاشی عدم استحکام کو کسی حدتک کنٹرول کرلیا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ آج مہنگائی اپنے عروج پر ہے، کسی کو اس میٓں کوئی شک نہیں کہ جب میں نے اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں تو اس کے ایک سے ڈیڑھ ماہ ہم اس شش و پنج میں شکار تھا کہ قیموٹ میں فرق کا بوجھ عوام پر منتقل کیا جائے یا نہیں،

وزیر اعظم نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ایک معاہدہ ہواتھا اس کی پاسداری نہیں کی گئی، اس معاہدے کی بری طرح دھجیاں بکھیرنے پر آئی ایم ایف نے ہمیں آڑے ہاتھوں لیا اور ناک سے لکیریں نکلوائیں۔ آئی ایم ایف نے کہا کہ ان شرائط پر عمل نہ کیا تو یہ پروگرام رک جائے گا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ سیلاب نہ بھی آتا تو پاکستانی کی معاشی صورت حال پہلے ہی گھمبیر تھی۔ سیلاب نے معاشی صورتحال کو مزید گھمبیر کردیا ہے، بلوچستان میں آج بھی پانی اب بھی خاموش تباہی مچارہا ہے، پٹ فیڈر کینال میں ریت بھر گئی ہے جسے نکالنے کے وہاں مشینری پہنچائی جارہی ہے، لاکھوں لوگ آج کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، وہاں پینے کا پا نی ایک چیلنج بن گیا ہے۔

ملک کو درپیش مسائل کے حوالے سے وزیر اعظم نے کہا کہ تمام تر ترجیحات کے بعد 75 سال بعد بھی ہم ایک دائرے پر چل رہے ہیں، ہم ایٹمی طاقت ضرور بن گئے، ایٹمی طاقت کی وجہ سے ہماری سرحدیں محفوظ ہوگئیں لیکن 75 سال بعد بھی ہم کشکول لے کر گھوم رہے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ اس ملک میں غربت اور بیرروزگاری کے خلاف آج بھی ہم لڑرہے ہیں۔ پوری قوم سوال پوچھتی ہے کہ ہمارا مستقبل کیا ہے؟۔ سردیوں کے لئے گیس حاصل کرنے کے لیے تگ و دو کررہے ہیں، جب ہمیں سستی گیس مل رہی تھی لیکن ہم سوئے رہے ، ہم نے اس کی کوئی پرواہ نہیں کی۔ ہم ہر طرف قرض ہی قرض دیکھ رہے ہیں، کسی دوست ملک جاتے ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ ہم مانگنے کے لئے آئے ہیں۔

PM SHAHBAZ SHARIF

Tabool ads will show in this div