اقوام متحدہ اس مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کرےگا، انتونیوگوتریس

سیلاب متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیوگوتریس کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ اس مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کرے گا۔ دورے کا مقصد پاکستان کے سیلاب متاثرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار ہے۔

اسلام آباد میں نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈینیشن سینٹر ( این ایف آر سی سی) کے دورے کے موقع پرسیکریٹری جنرل اقوام متحدہ کو سیلاب کی تباہ کاریوں پر بریفنگ دی گئی۔

میجر جنرل ظفر اقبال

بریفنگ میں این ایف آر سی سی کے میجر جنرل ظفر نے شرکا کو سیلاب کی صورت حال اور بحالی کے کاموں سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سندھ میں ایک مقام پر 700ملی میٹر بارش ہوئی اور بارشوں کے باعث کئی سو کلو میٹر طویل جھیل بن گئی۔ صوبے میں ابھی بھی ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن جاری ہے۔

این ایف آر سی سی کی جانب سے بتایا گیا کہ بلوچستان کے 4 اضلاع اس وقت بھی ڈوبے ہوئے ہیں، جب کہ سیلاب اور بارشوں کے دوران بلوچستان کی تمام شاہراہیں منقطع ہوچکی تھیں، جب کہ مچھ میں پل کی تعمیر تک کوئٹہ تک ٹرینیں بحال نہیں ہوسکیں۔

خیبرپختونخوا سے متعلق انہوں نے بتایا کہ صوبے میں اس وقت بھی 2 اضلاع شدید متاثر ہیں، البتہ کالام میں آج 9 ستمبر بروز جمعہ کی صبح شاہراہ کھول دی گئی ہے۔

انتونیو گوتریس نے سندھ میں منچھر جھیل کی موجودہ صورت حال پر سوال کیا تو ان کو بتایا گیا کہ 5مقامات پر کٹ لگا کر جھیل سے پانی نکالا گیا ہے۔

وزیراعظم

قبل ازیں نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈینیشن سینٹر ( این ایف آر سی سی ) میں مشترکا پریس کانفرنس سے خطاب میں وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیوگوتریس کی پاکستان آمد کا خیر مقدم کرتےہیں۔

وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان میں سیلاب سے 3کروڑ سے زائد لوگ متاثر ہوئے،وفاقی اور صوبائی حکومتیں اور افواج پاکستان مل کر کام کررہی ہیں۔

شہبازشریف کا کہنا تھا کہ محدود وسائل میں بہترین کام کررہے ہیں اورآہنی ارادوں سے مسائل پرقابو پالیں گے۔

سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیوگوتریس نے کہا کہ سیلاب قدرتی آفت ہے، جو موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے آتا ہے، دورہ پاکستان کا مقصد سیلاب متاثرین کے ساتھ اظہار یکجہتی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اقوام متحدہ اس مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کرے گا، اقوام متحدہ پاکستان کی اس مشکل وقت میں ہر ممکن مدد کیلئے تیار ہے۔پاکستان کو اس بحران سے نکلنے کے لیے بڑے پیمانے پر مالی امداد کی ضرورت ہے۔

احسن اقبال

این ایف آر سی سی کے ڈپٹی چیئرمین احسن اقبال نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں رواں سال غیر معمولی مون سون بارشیں ہوئیں۔ سیلاب سے ملک کی بڑی آبادی متاثر ہوئی، سیلاب سے فصلوں اور لائیو اسٹاک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

احسن اقبال نے یہ بھی کہا کہ سیلاب سے ذخیرہ اجناس کو بھی نقصان پہنچا ہے، جب کہ سیلاب سے جی ڈی پی میں 3 فیصد کمی کا امکان ہے۔

انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت میں بین الاقوامی برادری کو پاکستان کا بھرپور ساتھ دینے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے ایک تہائی حصے کو سیلاب کا سامنا ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق جہاں کم بارش ہوتی تھی وہاں ریکارڈ بارش ہوئی اور سیلاب سے 3کروڑ سے زائد لوگ، ہزاروں سڑکیں اور مکانات تباہ ، فصلیں متاثر ہوئیں۔

احسن اقبال نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کو ملک کے لیے بہت بڑا چیلنج قرار دیا اور کہا کہ پاکستان کو بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے۔

ISPR

NDMA

uno

FLOOD 2022

NFRCC

Tabool ads will show in this div